کب تک مَیں کروں زخم شُمار ایک کے بعد ایک
مرتے ہی چلے جاتے ہیں یار ایک کے بعد ایک
مالی سے کہو باغ کو آندھی سے بچا لے
ہوجائیں نہ سب پھول شکار ایک کے بعد ایک
نہیں مطلب نہیں اُس کی نہیں کا
یہ دل سمجھا نہیں، پاگل کہیں کا
یہ کیسے موڑ پر چھوڑا ہے تُو نے
مُجھے چھوڑا نہیں تُو نے کہیں کا !
جمالیات کو پڑھنے کا شوق تھا ، سو مجھے
عطا ھوا ھے مکمل نصاب یعنی تُو
اِدھر ھے کوہ کنِ دشتِ عشق یعنی مَیں
اُدھر ھے حُسنِ نزاکت مآب یعنی تُو
سارے پیمبروں کا ہے نعرہ علی علی
ہجرت کی شب نبی کا سہارا علی علی
پوچھا غدیر نے کہ ہے مولا ہمارا کون
خود ربِ کائنات پُکارا علی علی
یہ اور بات کہ پھر سلسلہ ہی چل نکلا
خدا گواہ ، مری پہلی آرزو تو ہے
تیرے کرم سے مرے اشک معتبر ٹھہرے
بچھڑنے والے ! میرے غم کی آبرو تو ہے
یہ غم ہے یا کسی تلوار سے دل کٹ رہا ہے ؟
ہلالِ عید ! تیری دھار سے دل کٹ رہا ہے
مسلسل آرہی ہے یاد کچھ قبروں کی فارس
ہمارا عید کے تہوار سے دل کٹ رہا ہے
وبا میں مرنا شہادت سہی مگر اے دوست !
مجھے تُو زندہ سلامت ہی پیارا لگتا ہے
خدایا ! میری بستی میں ہلالِ نَو کے صدقے
محبت جیت جائے اور نفرت ہار جائے
کھڑے ہیں دونوں طرف پیڑ چھتریاں لے کر
کہ راستہ نہ کہیں بھیگ جائے بارش میں
اب تو وہ ہوگا جو دل فرمائے گا
بعد میں جو ہوگا دیکھا جائے گا
تماشا ختم ہوا، اور ایسے ختم ہوا
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
دُشمن سے تو خیر کہاں مَیں دبتا تھا
یاروں میں شامل تھے چند ضمیر فروش
کسی کے نام کو لکھ لکھ کے کاٹنے والو!
قلم کی نوک سے رشتے قلم نہیں ہوتے
یخ بستہ شبِ ہجر کی برفیلی ہوا میں
مُجھ کو ترا غم، تجھ کو تری شال مُبارک
خنجر سے کی گئی مِرے پہلو میں گُدگُدی
یعنی رُلا رُلا کے ہنسایا گیا مجھے
تمہارے سامنے رکھی ہیں میں نے راہیں دو
سو ایک چن لو، محبت کی، یا محبت کی
وہ عشق تو کرے گا مگر دیکھ بھال کے
فارس وہ تیرے جیسا دیوانہ تو ہے نہیں
مَیں ترے سارے گُناھوں کی سزا بُھگتُوں گا
میرے پاس آجا ! بھلے حالِ پشیمان میں آ
وہ جو ہمیں عزیز ہے کیسا ہے کون ہے
کیوں پوچھتے ہو ہم نے بتانا تو ہے نہیں
چراغِ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا
کہ آج رات چلے گی ہَوا اُداسی کی
آپکی آنکھیں اگر شعر سنانے لگ جائیں
ہم جو غزلیں لیئے پھرتے ہیں ٹھکانے لگ جائیں
سر سے لے کر پاؤں تک ساری کہانی یاد ھے
آج بھی وہ شخص مُجھ کو مُنہ زبانی یاد ھے