صدیوں آنکھوں سے لگایا ہُواشخص
ہائے وہ شخص، گنوایا ہُوا شخص
اِس پہ بنتا ہے بہت سا ماتم
ہنس پڑا تیرا رُلایا ہُوا شخص
کون پونچھے گا مِرے اشکوں کو
مَیں ہُوں خود اپنا ستایا ہُوا شخص
چاند کو دیکھ کے یاد آتا ہے
چودھویں شب میں گنوایا ہُواشخص
ایک دن پھوٹ بہا آنکھوں سے
دل کے آنگن میں لگایا ہُوا شخص
جھوٹ بَکتے ہیں زمانے والے
بُھولتا کب ہے بُھلایا ہُوا شخص
میری فُرصت کو عطا کر، یارب !
اپنی فُرصت میں بنایا ہُوا شخص
کیوں جھلک بھربھی نظر آتا نہیں ؟
میرے دن رات پہ چھایا ہُوا شخص
مُجھ سے ملیے، مَیں وہی فارس ہُوں
آپ کے ہجر کا کھایا ہوا شخص