کل عجب چہرہ نظر آیا نقابِ سُرخ میں
جیسے چمکے برف کا ٹکڑا شرابِ سُرخ میں
اک غلافِ ریشمیں میں جیسے الہامی کتاب
اتنی پاکیزہ تُو لگتی ہے حجابِ سُرخ میں
گر بتا دُوں تو مُجھے منٹو سمجھ بیٹھیں گے لوگ
ایسی چیزیں دیکھتا ہُوں مَیں گلابِ سُرخ میں
سوچتا ہوں مَیں دہکتے گال تیرے دیکھ کر
کتنی گرمی ہوتی ہوگی آفتابِ سُرخ میں
پوچھتا آیا ہے صدیوں سے شہیدوں کا لہو
اور کتنے دن لگیں گے انقلابِ سُرخ میں ؟
مختلف ہیں یہ شرابیں، مل گئیں تو زہر ہے
مت مِلا نیلی اُداسی اضطرابِ سُرخ میں
عشق کا قانون اپنا، عشق کے اپنے اصول
مَیں نے پڑھ رکھا ہے فارس اک کتابِ سُرخ میں