بیٹھے ہیں چین سے، کہیں جانا تو ہے نہیں
ہم بے گھروں کا کوئی، ٹھکانہ تو ہے نہیں
تم بھی ہو بیتے وقت کی مانند ہُو بُہو
تم نے بھی یاد آنا ہے، آنا تو ہے نہیں
عہدِ وفا سے کِس لئے، خائف ہو میری جاں
کرلو کہ تم نے، عہد نبھانا تو ہے نہیں
وہ جو ہمیں عزیز ہے، کیسا ہے، کون ہے
کیوں پوچھتے ہو، ہم نے بتانا تو ہے نہیں
دنیا ہم اہلِ عشق پہ، کیوں پھینکتی ہے جال
ہم نے ترے فریب میں، آنا تو ہے نہیں
وہ عشق تو کرے گا مگر دیکھ بھال کے
فارس وہ تیرے جیسا، دیوانہ تو ہے نہیں