پھر غزہ کے خال و خد پر خون کا غازہ لگا
اور مَیں چُپ ہُوں ، مری غیرت کا اندازہ لگا
اب صلاح الدین ایُّوبی تو آنے کا نہیں
زندہ رہنا ہے تو اپنے دل کو آوازہ لگا
تیرے گھر تک آ ہی پہنچے گا فلسطینی لہو
قومِ اسرائیل ! اب تُو لاکھ دروازہ لگا
وہ گُلِ نوخیز جو مرجھا رہا تھا دھوپ میں
اپنے خوں میں ڈوب کر کیسا تر و تازہ لگا
جو بکھرتا جا رہا ہے ظلم کے طوفان میں
چشمِ نم کو نسلِ انسانی کا شیرازہ لگا
شاید ایسے تیرے دست و پا کا فالج ختم ہو
اپنے پیکر پر شہیدوں کے کٹے اعضا لگا
غور سے دیکھا تو قتلِ اُمتِ معصوم بھی
مجھ کو فارس اپنی خاموشی کا خمیازہ لگا