Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


رحمان فارس

پھر غزہ کے خال و خد پر خون کا غازہ لگا

پھر غزہ کے خال و خد پر خون کا غازہ لگا

اور مَیں چُپ ہُوں ، مری غیرت کا اندازہ لگا

 

اب صلاح الدین ایُّوبی تو آنے کا نہیں

زندہ رہنا ہے تو اپنے دل کو آوازہ لگا

 

تیرے گھر تک آ ہی پہنچے گا فلسطینی لہو

قومِ اسرائیل ! اب تُو لاکھ دروازہ لگا

 

وہ گُلِ نوخیز جو مرجھا رہا تھا دھوپ میں

اپنے خوں میں ڈوب کر کیسا تر و تازہ لگا

 

جو بکھرتا جا رہا ہے ظلم کے طوفان میں

چشمِ نم کو نسلِ انسانی کا شیرازہ لگا

 

شاید ایسے تیرے دست و پا کا فالج ختم ہو

اپنے پیکر پر شہیدوں کے کٹے اعضا لگا

 

غور سے دیکھا تو قتلِ اُمتِ معصوم بھی

مجھ کو فارس اپنی خاموشی کا خمیازہ لگا