عشق کا گر کوئی پیمانہ مقرر ہوتا
یار ! مَیں ہی ترا دیوانہ مقرر ہوتا
روز کے لاکھوں کما لیتا مَیں گھر بیٹھے ہوئے
گر تری یاد کا عوضانہ مقرر ہوتا
سجدۂ شکر بجا لاتے نمازی کتنے
صحنِ مسجد ہی جو مَے خانہ مقرر ہوتا
مَیں شب و روز سُناتا تمہیں لمبی غزلیں
بوسہ فی شعر، جو نذرانہ مقرر ہوتا