Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


رحمان فارس

دل کو درونِ خانہ ہی بہلاؤ، گھر رہو

دل کو درونِ خانہ ہی بہلاؤ، گھر رہو

تُم کو قسم ہے، بِھیڑ میں مت جاؤ، گھر رہو

 

زندہ رہے تو یار بہت، محفلیں بہت

فی الحال میرے انجمن آراؤ ! گھر رہو

 

مانا کہ عید ملنا بھی دستور ہے مگر

سینوں سے لگ کے موت نہ پھیلاؤ، گھر رہو

 

چوکھٹ نہ پار کرنا کہ باہر ہے قتلِ عام

گلیوں میں چل رہی ہے اجَل داؤ، گھر رہو

 

محبوب کو بھی لے کے مرو گے تُم اپنے ساتھ

گر عشق ہے تو عشق نہ جتلاؤ، گھر رہو

 

دریائے خوں ہے قریہ و بازار میں رواں

تہہ کرکے رکھ دو یارو ابھی ناؤ، گھر رہو

 

اک مُفتئ سخی کا ہے فتویٰ کہ ٹھیک ہے

گھر رہ کے چاہے مَے ہی پیے جاؤ، گھر رہو

 

فارس ! ہمیں بھی شوقِ ملاقات ہے مگر

پورے کریں گے بعد میں سب چاؤ، گھر رہو