Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


رحمان فارس

اِن میں کچھ غالب کُش ہیں، کچھ میر فروش

اِن میں کچھ غالب کُش ہیں، کچھ میر فروش

سچ کیسے لکّھیں گے یہ تحریر فروش !

 

دُشمن سے تو خیر کہاں مَیں دبتا تھا

یاروں میں شامل تھے چند ضمیر فروش

 

اِس بستی میں ایسے لوگ بھی بستے ہیں

ذات کے واعظ، پیشے کے خنزیر فروش

 

اُس گھر کی حُرمت کا اللہ حافظ ہے

جس گھر میں ہوں گھر والے توقیر فروش

 

ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا، دل میں کھوٹ

منہ پر نعرہ، نسل وہی کشمیر فروش

 

کیا رہتی درگاہ کی عزت، کیوں رہتی ؟

خاص الخاص مُرید بھی نکلے پِیرفروش

 

آنکھوں کی منڈی میں شب بھر پھرتے ہیں

سب خوابوں کے سوداگر، تعبیر فروش

باپ کی پگڑی پر پھر خاک تو پڑتی ہے

بیٹا ہی جب ثابت ہو جاگیر فروش

 

بھاگ بھری کے بھاگ جلے کچھ یُوں فارس

جس کو رانجھا سمجھی، نکلا ہیر فروش