Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


رحمان فارس

بیٹیوں جیسی ھے تُو، سو جب بڑی ہوجائے گی

بیٹیوں جیسی ھے تُو، سو جب بڑی ہوجائے گی

اے اُداسی ! کیا تری بھی رُخصتی ہوجائے گی ؟

 

ایک ہی تو شخص مانگا ہے خُدایا ! دے بھی دے

کونسا تیرے خزانوں میں کمی ہوجائے گی !

 

میری بستی میں تو تِتلی پر بھی مَر مِٹتے ہیں لوگ

تیرے آنے سے تو خلقت باؤلی ہوجائے گی

 

میرا کیا ہوگا، بتا ! تیری محبت ہار کر ؟

تیرا کیا ہے، تُجھ کو فوراً دوسری ہوجائے گی

 

میرے حِصّے کی خُوشی پر کُڑھنے والے دوستو !

اِس طرح کیا میری نعمت آپ کی ہوجائے گی ؟

پھول کُملا جائے گا اتنی مُسلسل دُھوپ سے

ہجر کی شدت سے گوری سانولی ھوجائے گی

 

دُور ہے جس بزم سے اُس بزمِ کی نیّت تو کر

غیر حاضر شخص ! تیری حاضری ہوجائے گی

 

بولنے سے شرم آتی ہے تو آنکھوں سے بتا

چُپ بھی ٹُوٹے گی نہیں اور بات بھی ہوجائے گی

 

اور کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ ہجر میں ؟

سانس کی مہلت میں تھوڑی سی کمی ہوجائے گی

 

اُس کو فارس اپنے سچّے لمس کا تریاق دے

تیری آنکھوں کی ڈسی اچھی بھلی ہوجائے گی