گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے
سات رنگوں کی صدا آٹھ پہَر آتی ہے
شاعری نامی پرندے کے ذریعے مجھ تک
کتنے نادیدہ زمانوں کی خبر آتی ہے
فیصلہ کرلے کہ ہے کون زیادہ حسّاس
تُجھ کو آتی ہے مہک، مجھ کو نظر آتی ہے
کون فنکار سنبھالے وہاں مصرعے کی لچک ؟
قافیہ بن کے جہاں تیری کمر آتی ہے
شعر تو بعد میں ہم سُنتے سُناتے رہیں گے
پہلے بتلا، تُجھے تعظیمِ ہُنر آتی ہے ؟
اور کیا آئے گا ہم اہلِ محبت پہ عذاب ؟
ہاں قیامت ہے، سو آنے دو اگر آتی ہے
سوچتا ہوں کہ گلی والے گُلوں کی خوشبو
کیسے در کھولے بِنا صحن میں در آتی ہے ؟
راستہ لاکھ مُقفّل ہو گلے سے لب تک
چیخ تو چیخ ہے، چُپکے سے گزر آتی ہے
ایسا خودکار ہے فارس مِرے اشکوں کا نظام
خالی ہوتی ہے مِری آنکھ تو بھر آتی ہے