میّتوں سے ڈرتے ہو
میّتیں تو تم بھی ہو
چلتی پھرتی وہ لاشیں
جن کی سانس چلتی ہے
اور ضمیر مُردہ ہے
جن کے جسمِ مُردہ پر
زندگی فسُردہ ہے
میتیں تو تم بھی ہو
اور تمہارے مسلک میں
وعدہ و وفا مُردہ
غیرت و حیا مُردہ
چشم و آئنہ مُردہ
سب کہا سُنا مُردہ
جو بھی حِس تمہاری ہے
زندگی سے عاری ہے
بے نوا سماعت بھی
بے بصر بصارت بھی
جس محل میں رہتے ہو
وہ محل بھی ہے میّت
میّتیں گُل و گلداں
میّتیں سبھی درباں
تاج و تخت بھی لاشیں
ساز و رخت بھی لاشیں
تم نے جو بنائے تھے
سب اصول مُردہ ہیں
اور تمہارے باغوں کے
سارے پھول مُردہ ہیں
پھر بھی اس قدر بُزدل ؟
کیا کمال کرتے ہو !
میّتوں میں رہ کر بھی
میّتوں سے ڈرتے ہو ؟
شاید اس لئے ہے ڈر
میّتیں ہیں جتنی بھی
تم ہی ان کے قاتل ہو !