Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


رحمان فارس

برف گرتی رہی

برف گرتی رہی

آسمانوں کے اُس پار سے رات بھر

برف گرتی رہی

بادلوں کے کٹوروں میں تھا مُنجمد

دیوتاؤں، خداؤں کا آبِ وضُو

اور سبُو در سبُو

برف کے چھینٹے ریشم کے پھولوں کی صورت بکھرتے رہے

نرم گالے، خموشی میں لپٹے ہوئے

سب چھتوں اور کھیتوں پہ کچّی سفیدی چھڑکتے رہے

خالی گلیاں کہ جیسے چمکتے سُفید اُون کی بِلّیاں

برف کے سرسراتے لحاف اوڑھ کر

پُرسکوں ہوگئیں

اور پھر سو گئیں

خامشی میں صدا کی ملاوٹ نہ تھی

کوئی آہٹ نہ تھی

خوابگاہوں میں لوگ اپنے پیاروں پہ بوسے لُٹاتے رہے

بے شکن بستروں پر شکن در شکن

گرم گاڑھے بدن

لمس کے ان کہے رنگ بھرتے رہے

آگ کی گود میں کسمساتی ہوئی لکڑیاں جل بُجھیں

جسم تپتے رہے

ہر جنُوں کو سہارا میسر رہا

ہر نظر کو ستارہ میسر رہا

ہر مُحِب اپنے محبوب سے مُتّصل

ہاں مگر صرف دو روتے کُرلاتے دل

جو کہ اک دوسرے کے نہ تھے رُوبرُو

ایک مَیں، ایک تُو