گمنام شاعر ہاجؔر دہلوی کا اصلی نام رگھونا تھ سنگھ تھا ، ان کی پیدائش دہلی کے ایک معزز علمی وادبی چھتریہ خاندان میں 30 اکتوبر 1884ء کو ہوئی ، ان کے اباء و اجداد کا شمار دہلی میں ممتاز اور اعلیٰ مرتبت افراد میں ہوتا تھا ، ان کی ابتدائی تعلیم مشن اسکول دہلی سے ہوئی ،ذہین اور مطالعہ کے شوقین تھے ، انہوں نے میر ، سودا، غالب اور داغ کے دیوان کا کم عمری میں مطالعہ کیا، 12 سال کی عمر سے شعر وشاعری کرنے لگے،انہوں نے باقاعدہ کسی سے اصلاح نہیں لی بلکہ اپنی ذہانت اور گھریلو ماحول سے سخن میں نکھار پیدا کیا ،انٹر کی تعلیم کے دوران ہی صاحب دیوان شاعر ہوگئے ،1902 ء میں انٹر پاس کرنے کے بعد اپنے دادا حکیم منشی سردار سنگھ حسیؔب جو کہ شاعر تھے اور عربی و فارسی زبان میں غیر معمولی قابلیت کے حامل تھے ان سے کسب فیض کیا ،اس کے علاوہ ان کے پاس فارسی اور عربی کی قلمی اور قدیم کتابوں کا ذخیرہ تھا ان سے بھی استفادہ کیا ، دو سو کے قریب بوسیدہ کتابوں کو ازسر نو اپنے فن خطاطی ( جس میں ان کو مہارت تھی )سے ان کو نقل بھی کیا ، اس کتب خانہ کی کچھ کتابیں جو انہوں تیار کی تھیں مارواڑی لائبریری دہلی کو عطیہ کردیں اور ادارہ نے 'ہاجر ' کے نام سے الگ سیکشن بناکر ان کو لائبریری میں ترتیب دیا ،حاذق ثانی حکیم منشی گوری شنکر سے فن طب کی بھی تعلیم حاصل کی ، 1906ء میں ان کے والد منشی رگھو بیر سنگھ جو دہلی کے محکمۂ پولیس میں سب انسپکٹر تھے ان کا انتقال ہوگیا ،ان کے قبل از وقت انتقال کے باعث ان کی جگہ ملازمت مل گئی اور تقرری بھوپال میں ہوئی ، بھوپال میں انہوں نے چار سال ملازمت کی اور شعر وشاعری کا سلسلہ بھی جاری رکھا،طبیعت کو بھوپال کی فضا راس نہیں آئی تو ملازمت چھوڑ کر دہلی واپس آگئے ،1910ء میں انہوں نے 'دارالشفاء' نامی دواخانے کی بنیاد ڈالی ،بہت جلد دواخانے نے شہرت حاصل کرلی اور 'دارالشفا ء'شہر کا بہترین اور مستند دواخانہ بن گیا ویسے طبابت ان کا خاندانی پیشہ تھا ،آپ صبح وشام مطب کرتے اور دوپہر کو اپنی زیر نگرانی ادویات کو تیار کراتے تھے ان کاموں کی مصروفیت کے باعث ان کو دوسرے کاموں کیلئے فرصت نہیں رہی ،طبابت کی مصروفیات کی وجہ سے شعر وشاعری کا سلسلہ قریب قریب منقطع ہوگیا ،1911ء کے بعد سوائے فرمائشی غزلوں اور قصیدوں کے کوئی قابل ذکر تصنیف نہیں ملتی، عربی و فارسی کے علاوہ ان کو ہندی اور انگریزی میں بھی مہارت حاصل تھی ،فن موسیقی اور مصوری کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے ، شاگردوں کی غزلیں بڑی توجہ سے درست کرتے تھے ،ان کے شاگردوں می بابو ہیم چند صاؔبر ، لالہ بسنت لال افسوؔس، لالہ کشن چند اختؔر، لالہ تاراچند جوؔہر پلیڈر ، لالہ الفت رائے الؔفت، میاں محمود شاہ محؔمود،منشی بدری پرشاد ؔشکوہ آبادی ، لالہ انوپ سنگھ حاضؔر وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
ہاجؔر دہلوی شاعر ،حکیم اور عمدہ نثر نگار تھے ،انہوں نے شاعری میں سبھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ان میں غزل ، مثنوی، قصیدہ، قطعات ، مسدس ، مخمس ،سہرا ، نوحہ اور نظم بھی شامل ہیں ، ان کی طبیعت میں رنگینی تھی اس لیے شاعری میں عاشقانہ رنگ بہت گہرا ہے ، انہوں نے میر ،سودا، داغ اور غالب کی زمینوں پر بھی شاعری کی ، غالب کی زمین میں ان کا بیشتر کلام موجود ہے ، ان کے یہاں موضوعات کا تنوع ہے وہ ایک ہی احساس کو کئی جہتوں اور زاویوں سے پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں ، وصل ، ہجر ، درد ، کسک ان کے کلام میں جابجا ملتا ہے ، غزل میں روایتی رنگ غالب ہے لیکن اس میں بڑی حرارت ہے ،باربار محبوب سے ملنے کو بے قرار نظر آتے ہیں اور اس تڑپ کو بیان کر تے ہیں ،ان کی شاعری میں جوش ہے ، غضب کا جذبہ ہے ان کے کلام میں تخیل کی بلندی ،فکری وسعت ،شعری تصورات ،مصرعوں کی ساخت ،لفظوں کی نشست و برخاست اور طرز ادا کا انداز اچھوتا اور دلکش ہے ،شوخی ،شرارت ،بذلہ سنجی ،چٹکیاں ان کی غزلوں کا خاصہ ہیں جو محسوس کیا اسکو منظوم کرنے میں بلا کی مہارت ہے ، ان کے کلام میں نازک خیالی اور مضمون آفرینی ملتی ہے ،صنعت تکرار کا استعمال بخوبی کیا ہے وہ اس تکرار سے شعروں میں جان پیدا کردیتے ہیں ، ان کے کلام میں غنائی کیفیت اور نغمگیت کا احساس ان کی موسیقیت سے رغبت کا پتہ دیتی ہے ، لفظ 'عدو' ان کے پورے کلام میں جا بجا ملتا ہے ، زبان کی سلاست ،بیان کی سادگی ،بندش کی خوش اسلوبی ان کو دہلی کے استاد شاعروں کے ہم پلاّ بناتی ہے ،ان کو الفاظ پر غیر معمولی قدرت حاصل ہے ، معاملہ بندی اور مضمون آرائی میں کمال حاصل ہے ،زبان سادہ ، رواں اور بامحاورہ ہے ، رگھونندن سنگھ ساؔحر دہلوی ان کے صاحبزادے جنہوں نے ' غالب اور ہاجر ' نامی کتاب میں غالب اور ہاجر کا موزانہ کیا ہے اس میں 'گزارش احوال ' کے تحت رقم طراز ہیں " مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ جناب ہاجؔر کی غزلیں مرزاغالب کی غزلیات سے کسی صورت بھی کم نہیں ہے بلکہ بعض مقامات پر ان سے سبقت لے گئیں ہیں ،اگر تنگ نظری اور تعصب کو چھوڑ کر انصاف سے کام لیا جائے تو جناب ہاجؔر کواردوزبان کے صف اول کے شاعروں میں شمار کرنا ہوگا اور بلا شک وہ اس کے مستحق ہیں "۔
ہاجر دہلوی شاعر و حکیم کے علاوہ عمدہ نثر نگار بھی تھے ،انہوں نے ڈرامے اور جاسوسی ناول بھی لکھے ہیں ۔
حکیم منشی رگھونا تھ سنگھ ہاجؔر دہلوی مختصر علالت کے بعد 15 جون 1922ء کو اس دنیا سے رحلت کرگئے ۔
ہاجر دہلوی کی تخلیقات مندرجہ ذیل ہیں :-
1۔ دیوان ہاجؔر
2۔ نئی روشنی(ڈرامہ)
3۔ شادی خانہ آبادی(داستان و ڈرامہ)
4۔لاش غائب (جاسوسی ناو(
مری جانب اشارہ کرکے وہ کہتے ہیں غیروں سے
ذرا صورت تو ان کی دیکھئے یہ ہم پہ مرتے ہیں
اُسے چوما ،اُسے چاٹا ،اِسے پٹکا ، اُسے توڑا
کھلونوں کی طرح وہ عاشوں کے دل سمجھتے ہیں
خاموشی جب ترجمانِ حالت دل ہوگئی
فائدہ کیا داستانِ عشق کی تفسیر میں
نالۂ دل ضعف کے باعث نہ لب تک آسکا
کیوں نہ پڑجائے خلل پھر آہ کی تاثیر میں
طاقت ضبط نہیں ملتا ہے مل لے دلبر
میں بہت عرصے تیرے عشق میں خاموش رہا
دل تصور میں تری آنکھ کے مے نوش رہا
جوش الفت سے تپ ہجر میں بے ہوش رہا
ہونے کو تو ہیں یار زمانے میں بہت سے
آفت میں کسی کی کوئی شامل نہیں ہوتا
یہ کہتے جو خود نہیں کچھ جانتے ہاجؔر
انسان کتب بینی سے فاضل نہیں ہوتا
تصور میں تری تصویر کے تصویر کی صورت
نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ترے غمخوار بیٹھے ہیں
حوروش تجھ سا کوئی اے ستم ایجاد نہیں
مجھ سا دنیا میں کوئی سوختہ برباد نہیں
ماتم ہے آج کس کا، روتی ہو کس لئے تم
کہتے ہیں مسکرا کر بلبل سے گل ِ چمن میں
خوگرِ بیداد گر وہ بے وفا ہوتا نہیں
دل ہمارا تختۂ مشقِ جفا ہوتا نہیں
حسن بھی ہے ناز بھی لیکن حیا ملتی نہیں
ڈھونڈتی ہیں جنکو آنکھیں وہ ادا ملتی نہیں
نہیں ممکن نہیں تاثیر اپنے جذبۂ دل میں
بڑی پردرد آہیں ہیں بڑے پر سوز نالے ہیں
بار آور ہوگیا میرا نہال آرزو
لگ گئیں سینے سے جب میرے سمٹ کر چھاتیاں
اس ماہرو کی دید سے حوریں ہیں دلفگار
شرمندہ اس کو دیکھ کے کیونکر قمر نہ ہو
معشوق کس کام کا جو چلبلا نہ ہو
مغرور نہ ہو شوخ نہ ہو بے وفا نہ ہو
نہیں معلوم مرکر کس جگہ پر روح جاتی ہے
وہی واقف ہے ہاجؔر اس سے جس کا دم نکلتا ہے
الفت ہمارے دل میں مسکن گزیں ہے تیری
فرقت میں یاد ہمکو کس دم نہیں تیری
یہ میخانہ ہے شیخ مسجد نہیں ہے
کہاں آگیا تو کہاں آتے آتے
کوئی بات کھل کر نہ ہو سکی کہ وہ بزم بزم ِرقیب تھی
جو سنا سکے وہ سنا دیا جو دکھا سکے وہ دکھا دیا
دیکھا جب ان کو مرا دل دھڑک گیا
بجلی چمک گئی جو ڈوپٹہ سرک گیا
سوائے مرگ کے یا وصل کے درد جدائی میں
مریض ہجر کو ہرگز افاقا ہو نہیں سکتا
خدا معلوم کیا سمجھے زمانہ ایسی باتوں سے
نہ کرنا تم کسی سے ذکر میرے آنے جانے کا
کہا تم نے جب مری جاں چلی تمہیں ہم سے کیا ہمیں تم سے کیا
گرہ دل میں غم کی الجھ گئی تمہیں ہم سے کیا ہمیں تم سے کیا
رگِ گل ٹوٹتی ہے رشک سے تیری نزاکت پر
حسنیوں میں نہ تجھ سا کوئی بھی نازک کمر ہوگا
کیسا ملال، کیسی محبت، کہاں کا درد
جب دلربا یہ دم ہی بدن سے نکل گیا
قتل کرکے سر مقتل یہ کہا قاتل نے
دل لگانے کا مزا ہاجؔر ناکام نکلا
روتے روتے تیری فرقت میں گنوائیں آنکھیں
نہ کبھی لب یہ مگر کلمۂ فریاد آیا
ستمگر میرے دل میں حسرتوں کا خون ہوتا ہے
تصور جب میں کرتا ہوں تیرے دستِ حنائی کا
دل سے ہوا جو آتش غم کا دھواں بلند
چھایا رہا ہے رنج کا بادل تمام رات
روتے روتے جب تصور میں ترے لگتی ہیں آنکھ
اہل دنیا یہ سمجھتے ہیں مجھے آتی ہے نیند