حسن بھی ہے ناز بھی لیکن حیا ملتی نہیں
ڈھونڈتی ہیں جنکو آنکھیں وہ ادا ملتی نہیں
سرد مہری کا تری بازار ہر سو گرم ہے
اب زمانے میں کہیں جنس وفا ملتی نہیں
عشق کے بیمار کو ہر گز نہیں ہوتی شفا
دردفرقت کی زمانے میں دوا ملتی نہیں
تیرے میخانے میں ساقی کیا طبیعت سیر ہو
ایک ساغر سے کبھی ہمکو سِوا ملتی نہیں
دل اگر ان سے ہمارا مل گیا تو کیا ہوا
عادتوں میں فرق ہے خصلت ذرا ملتی نہیں
دل لگا کر ہم کسی گل رو سے ہاجؔر کیا کریں
باغ ِ عالم میں کہیں بوئے وفا ملتی نہیں