Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ہاجر دہلوی

حسن بھی ہے ناز بھی لیکن حیا ملتی نہیں

حسن بھی ہے ناز بھی لیکن حیا ملتی نہیں

ڈھونڈتی ہیں جنکو آنکھیں وہ ادا ملتی نہیں

 

سرد مہری کا تری بازار ہر سو گرم ہے

اب زمانے میں کہیں جنس وفا ملتی نہیں

 

عشق کے بیمار کو ہر گز نہیں ہوتی شفا

دردفرقت  کی زمانے میں دوا ملتی نہیں

 

تیرے میخانے میں ساقی کیا طبیعت سیر ہو

ایک ساغر سے کبھی  ہمکو سِوا ملتی نہیں

 

دل اگر ان سے ہمارا مل گیا تو کیا ہوا

عادتوں میں فرق ہے خصلت ذرا ملتی نہیں

 

دل لگا کر ہم کسی گل رو سے ہاجؔر کیا کریں

باغ ِ عالم میں کہیں بوئے وفا ملتی نہیں