وہ بے مہر کب آشنا ہے کسی کا
نہ ہوگا نہ ہوکر رہا ہے کسی کا
کہیں جرم ناکردہ ثابت ہوا ہے
کہیں خون ناحق روا ہے کسی کا
نہ مقبول ہو وہ دعا ہے کسی کی
جو پورا نہ ہو مدعا ہے کسی کا
جو کہتا ہے کہتا ہے مطلب کی اپنے
نہ معلوم کیا مدعا ہے کسی کا
یہ دامن یہ دھبے لہو کے ہیں کیسے
ضرور آپ نے خوں کیا ہے کسی کا
عدو ہنس رہے ہیں مری بیکسی پر
کسی کی مصیبت ، مزاہے کسی کا
چرا کر وہ نظروں سے دل میرا ہاجؔر
یہ کہتے ہیں کیا لے لیا ہے کسی کا