Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ہاجر دہلوی

وہ بے مہر کب آشنا ہے کسی کا

وہ بے مہر کب آشنا ہے کسی کا

نہ ہوگا نہ ہوکر رہا ہے کسی کا

 

کہیں جرم ناکردہ ثابت ہوا ہے

کہیں خون ناحق روا ہے کسی کا

 

نہ مقبول ہو وہ دعا ہے  کسی کی

جو پورا نہ ہو مدعا ہے کسی کا

 

جو کہتا ہے کہتا ہے مطلب کی اپنے

نہ معلوم کیا مدعا ہے کسی کا

 

یہ دامن یہ دھبے لہو کے ہیں کیسے

ضرور آپ نے خوں کیا ہے کسی کا

 

عدو ہنس رہے ہیں مری بیکسی پر

کسی کی مصیبت ، مزاہے کسی کا

 

چرا کر وہ نظروں سے دل میرا ہاجؔر

یہ کہتے ہیں کیا لے لیا ہے کسی کا