Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ہاجر دہلوی

دیکھ کر کاکُل ترے دل میرا گھبرانے لگا

دیکھ کر کاکُل ترے دل میرا گھبرانے لگا

راستہ ظلمات کا مجھ کو نظر آنے لگا

 

بام پر شب کو جو وہ رشکِ قمر آنے لگا

دیکھ کر صورت مۂ پُر نور شرمانے لگا

 

درد ہجراں سے نقاہت اس قدر پیدا ہوئی

حال ہے بے حال اپنا غش  پہ غش  آنے لگا

 

اس قدر ظلم وستم بہتر نہیں بیمار پر

دم نکل کر لب پہ اے بیداد گر آنے لگا

 

غیر سے اب اس کی ہاجؔر  آشنائی ہوگئی

وہ بت پُر فن ہمارے پاس کیوں آنے لگا