Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ہاجر دہلوی

جسے اہل جہاں کہتے ہیں جلوہ مہر تاباں کا

جسے اہل جہاں کہتے ہیں جلوہ مہر تاباں کا

حقیقت میں شرارہ ہے ہماری آہ ِ سوزاں کا

 

عبث دھوتا ہے کیوں اشکِ ندامت سے مرا قاتل

نہ چھوٹے کا کبھی دھبہ ہے  یہ خون ِ شہیداں کا

 

تپ سوزِالم سے روز و شب فرقت میں جلتا ہوں

تصور مجھ کو رہتا ہے کسی کی روئے تاباں کا

 

جسے سب لوگ کہتے ہیں قیامت اک نظارہ ہے

مرے حال دگر گوں کا تری زلف ِپریشاں کا

 

کسی کافر ادا کی یاد میں دل محو رہتا ہے

خدا حافظ ہے اب ہاجؔر ہمارے دین وایماں کا