جسے اہل جہاں کہتے ہیں جلوہ مہر تاباں کا
حقیقت میں شرارہ ہے ہماری آہ ِ سوزاں کا
عبث دھوتا ہے کیوں اشکِ ندامت سے مرا قاتل
نہ چھوٹے کا کبھی دھبہ ہے یہ خون ِ شہیداں کا
تپ سوزِالم سے روز و شب فرقت میں جلتا ہوں
تصور مجھ کو رہتا ہے کسی کی روئے تاباں کا
جسے سب لوگ کہتے ہیں قیامت اک نظارہ ہے
مرے حال دگر گوں کا تری زلف ِپریشاں کا
کسی کافر ادا کی یاد میں دل محو رہتا ہے
خدا حافظ ہے اب ہاجؔر ہمارے دین وایماں کا