ہم اپنی داستان ہجر جب ان کو سناتے ہیں
وہ منھ سے کچھ نہیں کہتے ستم ہے مسکراتے ہیں
جو سچے مرد ہیں دنیا میں ان کی یہ نشانی ہے
نہیں امداد پر غیروں کی وہ تکیہ لگاتے ہیں
دیوالی ہو کہ ہولی ہو ،کوئی تہوار ہو ہاجؔر
جنھیں غم سے فراغت ہے وہی خوشیاں مناتے ہیں