شیشۂ وساغر ومے پیش ِنظر ہیں لیکن
تشنہ لب رند ہیں میخانہ میں ساقی نہ ہوا
غیر دیتا ہے شبِ ہجر تسلی مجھ کو
یارو غم خوار ہوا دشمنِ جانی نہ ہوا
عشق کا پاس ہے اس درجہ ترے عاشق کو
روز ِپرشش تری بیداد کا شاکی نہ ہوا