سیر کرنے کےلئے حورِ شُمائل آیا
شورقمری نے کیا باغ میں قاتل آیا
روئے انور پر ترے کیوں نہ ہو نیّر قربان
پیشوائی کو تری جب مہ کامل آیا
اپنے جوبن کی نہیں جسکو خبر بھی ابتک
ہائے اس شوخ ستمگر پہ مرا دل آیا
لبِ منصور سے نکلا دم آخر ہاجؔر
دارپر بحر ِغم ِعِشق کا ساحل آیا