Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ہاجر دہلوی

کبھی ہم کو تم سے بھی عشق تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم کو تم سے بھی عشق تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم بھی تم بھی تھے باوفا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

تمہیں جبکہ دیکھا تھا گلبدن ہوا ہجر میں تھا میں نوحہ زن

مرا دل بھی غم سے  فگار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

ملا جبکہ مجھ سے وہ دلربا لگا کہنے ہنس کے یہ بیوفا

مرادل بھی تم پہ نثار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

کروں شکر خالق دہر کا کہ اسی نے تم کو ملادیا

نہیں نام سے بھی کینہ تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

ملا جبکہ مجھ سے وہ ماہ رو کہا میں نے اس سے یہ دوبدو

میں ہوں وہ ہی ہاجؔر  باوفا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو