کبھی ہم کو تم سے بھی عشق تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم بھی تم بھی تھے باوفا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
تمہیں جبکہ دیکھا تھا گلبدن ہوا ہجر میں تھا میں نوحہ زن
مرا دل بھی غم سے فگار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ملا جبکہ مجھ سے وہ دلربا لگا کہنے ہنس کے یہ بیوفا
مرادل بھی تم پہ نثار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کروں شکر خالق دہر کا کہ اسی نے تم کو ملادیا
نہیں نام سے بھی کینہ تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ملا جبکہ مجھ سے وہ ماہ رو کہا میں نے اس سے یہ دوبدو
میں ہوں وہ ہی ہاجؔر باوفا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو