منشی نوبت رائے نظؔر لکھنوی کی پیدائش محلہ نواز گنج لکھنؤ کے ایک متوسط گھرانہ میں ستمبر 1864ء میں ہوئی تھی، ان کے آباؤ اجداد کا تعلق اٹاوہ کے کائستھوں کے سکسینہ گھرانہ سے تھا، ان کا خاندان پہلے دہلی میں اور پھر لکھنؤ میں آباد ہوا۔ اس خاندان کے بزرگ مغلیہ سلطنت اور نوابین اودھ کے یہاں معزز عہدوں پر فائز رہے، منشی نوبت رائے کے والد منشی الفت رائے فارسی اور انگریزی سے واقف تھے جس کی وجہ سے پہلے عہد شاہی میں اور بعد ازاں انگریزی حکومت کے سرشتۂ تعلیم کے عہدوں پر فائز رہے، اضلاعِ اودھ کے بہت سے اسکول ان کی کوششوں کا ثمرہ ہیں جن میں سیتاپور کا ہائی اسکول خصوصیت سے قابل ذکر ہے، نوبت رائے ابھی تین سال کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، ان کے دادا نے پرورش کی، ابتدائی تعلیم فارسی میں ہوئی، مولوی حسن علی لکھنوی، مولوی فضل علی کرسوی، منشی رنگ لال چمن سے تعلیم حاصل کی، خوشنویسی مولوی عبد الرزاق سے سیکھی، اپنی کوششوں سے انگریزی میں بھی عبور حاصل کرلیا، شعروشاعری کا ذوق وراثت میں ملا تھا، 1884ء میں انہوں نے آغا مظہؔر کی شاگردی اختیار کر لی، استاد نے بھی قابل شاگرد کے فن کو بخوبی پہچان لیا اور خوب نظر عنایت فرمائی، آغا اپنے بعض شاگردوں کے کلام کی اصلاح بھی انہیں سے کرانے لگے۔
1897ء میں منشی نوبت رائے نے اخبار نویسی کی ابتدا کی اور ایک رسالہ 'خدنگ نظر ' جاری کیا، ابتدا میں اس رسالہ میں صرف شعر وشاعری کے مضامین ہوتے تھا، بعد ازاں اس میں نثری مضامین بھی شامل کئے جانے لگے، یہ رسالہ سابق نظام دکن میر محبوب علی خان کے نام نامی سے منسوب تھا، اس کے باوجود 1904ء میں رسالہ بند ہوگیا۔ اس کے بعد آپ نے کانپور کے رسالہ 'زمانہ' کی ادارت میں معاونت کی، 1910ء میں انڈین پریس الہ آباد چلے گئے اور 'ادیب' کی ادارت کے فرائض انجام دئے، اس کے بعد دیا رام نگم کے ہفتہ وار 'آزاد' کے مدیر رہے، 1914ء میں واپس لکھنؤ آ گئے اور یہاں 'تفریح' نامی رسالہ سے وابستہ ہوگئے، حامد علی خان بیرسٹر کی وساطت سے مطبع نول کشور کے مالک پراگ نرائن بھارگو سے متعارف ہوئے جس کے بعد بھارگو جی نے ان کی خدمات بطور مدیر 'اودھ اخبار' کے حاصل کیں، پنڈت برج ناتھ شرغہ کے 'خادم ہند ' سے بھی وابستہ رہے، مباحثہ چکبست وشرر میں 'نقاد لکھنؤی' کے نام سے جو مضامین منسوب ہیں وہ انہیں کے قلم سے نکلے ہیں ،یہ مضامین 1905ء میں 'زمانہ' کانپور سے شائع ہوتے تھے، تنقیدی مضامین کے علاوہ انہوں نے چند انگریزی ناولوں کے ترجمے بھی کئے جن میں 'شام جوان' قابل ذکر ہے، اس کے علاوہ 'حسین رانی' اور 'عروج وزوال' کے نام سے ان کے طبع زاد ناول بھی ہیں، صفؔی لکھنوی، احمد علی شوؔق، چکبؔست، کاظم حسین محشؔر ،عزیؔز لکھنوی، کندن لال شرؔر، دیا نرائن نگم، منشی پریم چند، مولانا شبلی نعمانی، مولانا عبد الماجد دریآبادی، اکبر آلہ آبادی، مولانا حسرت موہانی، تیج بہادر سپرو اور حامد علی خان بیر سٹر سے ان کے اچھے تعلقات تھے، ان کے تلامذہ میں سب سے زیادہ شہرت بشیسور پرشاد منوؔر لکھنوی کو حاصل ہوئی، حافظ محمد حسین تمؔیز، میر وہب علی اثؔر، حاجی تجمل حسین تجؔمل، قدرت غنی صابری مدراسی، منشی عبدالسبحان، سلامت اللہ اسلؔم وغیرہ بھی شاگردوں میں شامل تھے۔
منشی نوبت رائے نظؔر لکھنوی ایک شاعر، ناقد، نثر نگار اور ناول نویس ہیں، انہوں نے شاعری کی سبھی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے، بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں لیکن نظم، قطعات و قصائد اور نوحے بھی کہے ہیں، ان کی شاعری پر طبعا ًلکھنوی رنگ کا غلبہ ہے جس کی وجہ سے سوز وگداز اور حسن وعشق کے مضامین نمایاں ہیں، ان کی شاعری میں گل وبلبل، زلف وشانہ، آہ ونالہ، مجبوری وناتوانی، دم نزع وموت، آہ وبکا، تربت و لحد و میت، قتل وجلاد وغیرہ کے حوالے کثرت سے ملتے ہیں۔ محاکات، منظر کشی، حب الوطنی، خمریات، تعلیات، ذاتیات، فلسفۂ وتصوف اور تکرار لفظی بھی ان کے کلام کا حصہ ہیں۔ الفاظ کی بندش، ندرت بیانی، جدت ادا، فارسی واردو کی خوبصورت اور دل آویز ترکیبیں، اچھوتی تشبیہات، اور نفیس استعارے ان کے کلام میں جابجا ملتے ہیں جو انہیں ہمعصر شعرا میں ممتاز اور منفرد مقام کا حامل بناتے ہیں۔ ان کے کلام میں طرز بیان کی شوخی اور حسن بیان بڑا نرالا ہے، رعایت لفظی لکھنؤ اسکول کاخاصہ ہے جس کو انہوں نے حسن وعشق، سوز وگداز اور ہجر وصال کے مضامین میں بخوبی برتا ہے، انہوں نے معنی آفرینی کیلئے بسا اوقات اردو، فارسی اور عربی کے نامانوس الفاظ بھی استعمال کئے ہیں اور ایسی ثقیل ترکیبیں باندھی ہیں جو لُغت ہاتھ میں لئے بغیر حل نہیں ہوسکتیں، غزل گوئی کے علاوہ انہوں نے فطری مناظر کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے، ان کا مزاج اس قدر تنوع پسند تھا کہ ان کے خیالات غزلوں اور نظموں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے اپنی قصیدہ گوئی میں انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر گہری نظر ڈالی ہے، جگر بریلوی کے مطابق "نظؔر جدید تغزل کے اماموں میں تھے"، قصیدہ گوئی میں طبع آزمائی ان کی فنی مہارت کا پتہ دیتی ہے اور اس کی تشبیبات بھی گراں قدر ہیں، دیانرائن نگم لکھتے ہیں "نظؔر کی جدت آفرینی اور تنوع پسند طبیعت کسی جگہ بھی بند نہ تھی، آپ ان کے کلام میں قدیم وجدید اردو شاعری کے بیش بہا جواہر پارے دیکھیں گے، قومی اور نیچرل شاعری کے بلند پایہ نمونے پائیں گے، وہ قصیدہ لکھنے بیٹھتے ہیں تو فصاحت وبلاغت کے دریا بہا دیتے ہیں، ظر کا مجموعہ کلام ایک مرقع ہے، ایک نگار خانہ ہے جس میں میر تقی میر کا سوز وگداز ہے، مرزا رفیع سودا کی شوکت الفاظ ہے، ناسخ کی تشبیہات واستعارے ہیں، آتش کی آتش نوائی اور انشاء اللہ خان کی قادر الکلامی ہے، نسیم کی رنگیں بیانی اور داغ و امیر کی معاملہ بندی کا تغزل بھی ہے"۔
نظر کے ممتاز شاگرد منور لکھنوی لکھتے ہیں : "نظؔر صاحب کی نشست وبرخاست مسلمان شاعروں اور ادیبوں میں زیادہ رہی، آپ کا شعری اور ادبی رجحان اسلامی تصورات سے بنا، سوسائٹی اور ماحول کا اثر ہر شخص پر پڑ تا ہے اور نظؔر صاحب بھی اس سے مستثنی نہ تھے، آپ کی غزل کا حُزنیہ پہلو زیادہ نمایاں ہے مگر اپنا انفرادی رنگ لئے ہوئے "۔
منشی نوبت رائے نظؔر لکھنوی ضیق النفس کے عارضہ میں علیل ہوکر 10 اپریل 1923ء کو لکھنؤ میں اپنے نوبستہ نزد قدم رسول کی درگاہ والے مکان پر وفات پائی۔
منشی نوبت رائے نظؔر لکھنوی کی کتابیات :-
1۔ انوار نظر (مجموعہ کلام )
2۔ شام جوان (ناول، انگریزی سے ترجمہ)
3۔ حسین رانی (ناول)
4۔ عروج وزوال (ناول)
ایک مختصر سا لفظ تمنا کہیں جسے
ہے وہ طلسمِ شوق کہ دنیا کہیں جسے
ترے وعد ے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتا
تو جہاں میں کچھ نہ ہوتا فقط انتطار ہوتا
حیا کیسی اگر نیچی کئے آنکھیں وہ بیٹھے ہیں
نگاہوں کا نہ اٹھنا یہ بھی اک حسنِ نزاکت ہے
کرتاہے مجھے قتل ترا قتل سے انکار
قاتل وہی ہوتا ہے جو قاتل نہیں ہوتا
چھین کر ہم سے مٹا دی تم نے وہ بھی دل لگی
دم الجھتا تھا تو کر لیتے تھے باتیں دل سے ہم
بدل کر رکھ لئے لوگوں نے نام حسبِ مذاق
وہی ادا ہے تمہاری، وہی قضا میری
ذکر الفت پر نتیجہ یہ ہوا تقریر کا
میں بھی چپ ہوں، وہ بھی چپ، عالم ہے اک تصویر کا
دم ِ مشکل یہ لب ِ زخم صدا دیتے ہیں
ہم پسینہ کی جگہ خون بہا دیتے ہیں
ہجر میں ناشاد دنیا سے دلِ مضطر گیا
آج اپنے ساتھ کا اک مرنے والا مر گیا
ہم وہی، گلشن وہی، محفل وہی، سامان وہی
ایک ساقی کیا گیا، لطفِ مے وساغر گیا
حضور رہ گئی دنیا میں بات کہنے کو
نہ میں رہا نہ رہی میری آرزو باقی
پہلو میں دل وہی ہے مگر دل نہیں رہا
یعنی اب امتحان کے قابل نہیں رہا
تاسف رہ گیا باد بن کر عمر رفتہ کی
نہ وہ ہم ہیں، نہ وہ دل ہے، نہ وہ راتیں جوانی کی
نہ گالیاں، نہ جواب سوال دیتے ہیں
ستم ظریف ہیں ہنس ہنس کے ٹال دیتے ہیں
یہ کس کا یاس ِ رسوائی ادب آموز وحشت ہے
کہ اپنی آنکھ کا ڈھیلا مجھے سنگِ ملامت ہے
ہر خار سے یوں پوچھتی تھی دشت میں لیلٰی
تم نے تو کسی آبلہ پا کو نہیں دیکھا
عبث ہے وصل بتاں کا جویا، تلف نہ کر عمر بہر ِ دنیا
اٹھے جو دل سے دوئی کا پردہ تو آپ اپنے میں کیا نہیں ہے
نظؔر، میں عشق آوارہ بھی رہا برسوں
بھلا سکا نہ مرے دل سے لکھنؤ کوئی
بھر دے چُلوّ میں جو شیشے میں ہو باقی ساقی
مجھ بلا نوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی
مے ہے، ساقی ہے، گلستاں ہے، گھٹا چھائی ہے
کہہ دو توبہ شکنوں سے کہ بہار آئی ہے