نہیں جو پہلو میں آج ساقی ،تو مے کشی کا مزا نہیں ہے
یہ عکس بخت سیہ ہے میرا ،فلک پہ کالی گھٹا نہیں ہے
کہوں میں کیا حال سینۂ کاہی ،کہ دل تڑپتا ہے مثل ماہی
یہ کون سا زخم ہے الہی ! نشان کا جس کے پتا نہیں ہے
ہوئی ہے کیا جانے کیا برائی ،قفس سے ملتی نہیں رہائی
گلوں کی بو تک نہ اڑ کے آئی ،ادھر کی شاید ہوا نہیں ہے
ہزار انسان ہو گرمِ افغاں ، اثر دلوں پر نہیں ہے آساں
کہ حلقۂ دودِ آہ سوزاں ،کمندِ زافِ رسا نہیں ہے
چھپاؤ ہنس ہنس کے منھ نہ اپنا ،کہ مفت ہوتا ہے خون دل کا
تمہاری شرم وحیا کا پردا،نیام ِ تیغ ِ ادا نہیں ہے
نہ پوچھ احوال عشقِ پنہاں ،یہاں ہے انسان کی حیراں
یہی ہے غارت گر ِدل وجاں ،وہ چوٹ جس میں صدا نہیں ہے
اٹھا ئے جس وقت پھول میرے ،وہ ہنس کے نازوادا سے بولے
کہ بے مروت ہیں مرنے والے ،کسی میں بوے وفا نہیں ہے
گھرا ہے ہر سمت ابر رحمت ،ہر ایک گل کی پھری ہے رنگت
وہ داغ ِ سودا ہے ننگ وحشت ،جوان دنوں خود ہرا نہیں ہے
عبث ہے وصل بتاں کا جویا ، تلف نہ عمر بہر ِ دنیا
اٹھے جو دل سے دوئی کا پردہ تو آپ اپنے میں کیا نہیں ہے