پہلو میں دل وہی ہے مگر 'دل' نہیں رہا
یعنی اب امتحان کے قابل نہیں رہا
حسرت کشی رہی مجھے بے حاصلی میں بھی
کیوں کر کہوں کہ عشق سے حاصل نہیں رہا
داماندگی ِ شوق سے پچھتا رہا ہوں اب
پہلے خیال ِ دوری ِ منزل نہیں رہا
دل مر گیا تو بزم ِ تمنا اداس ہے
محفل وہی ہے ،صاحب ِ محفل نہیں رہا
تدبیر بے نیازی ِقاتل نہ ندیم
یہ زخم اندمال کے قابل نہیں رہا
ہم پر یہ ایک ظلم پسِ قتل بھی ہوا
یعنی ہمارے بعد وہ قاتل نہیں رہا
ہے اس کے عہدِ حسن میں کیا انقلاب عشق
پھولوں سے ارتباط ِ عنادل نہیں رہا
مقصود آب پاشی کشت ِ وفا نہیں
رونا یہ ہے کہ اب کوئی حاصل نہیں رہا
ہونے لگا یاس میں انحطاط ِ عشق
وہ زور وشورِ جذبۂ کامل نہیں رہا
ٹپکا لہو کا قطرۂ آخر بھی آنکھ سے
اے غم ہزار شکر کہ اب دل نہیں رہا
چل بیٹھیے مزار پہ گوری کے اے نظؔر
اپنا مکان رہنے کے قابل نہیں رہا