Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

عشق وموت

اک سہانی رات کو چھٹکی ہوئی  تھی چاندنی

ماہ کامل دے رہا تھا  اپنی پوری روشنی

خلد کے صحن معطر میں خراماں عشق تھا

دیکھتا تھا ہر طرف پڑتی تھیں نظریں جا بجا

سامنے ہی صحن میں تھا اک درخت پر بہار

جس کے نیچے پھر رہی تھی موت تنہا بے قرار

اور یہ کہتی تھی ہر دم عشق سے کرکے خطاب

جا یہاں سے ،یاں ترا کیا کام او خانہ خراب

یہ جگہ ہے دو گھڑی میرے ٹہلنے کے لئے

لطف اٹھانے کے لئے ،جی بہلنے کے لئے

عشق نے پھیلائے پر اڑنے کو اور روکر کہا

اب تو ہے تیرا زمانہ ،جو کہے تو ،ہے بجا

تیری ہستی اس طرح ہے جس طرح سے اک شجر

ڈالتا ہے دھوپ کے وقت اپنا سایہ فلک پر

بس یونہی اس غیر فانی روشنی میں عمر بھی

اک شجر ہے ،اور تو ہے اس کا سایہ واقعی

لیکن اس سایے کو کب ممکن ہے عالم میں بقا

جب شجر گرتا ہے ،ہوجاتا ہے سایہ بھی فنا

تو فنا ہوجائے گی ،مجھ کو بقا ہے بے گماں

تا ابد ہر چیز پر یو نہیں رہوں گا حکمراں

)ٹینی سن (