اک سہانی رات کو چھٹکی ہوئی تھی چاندنی
ماہ کامل دے رہا تھا اپنی پوری روشنی
خلد کے صحن معطر میں خراماں عشق تھا
دیکھتا تھا ہر طرف پڑتی تھیں نظریں جا بجا
سامنے ہی صحن میں تھا اک درخت پر بہار
جس کے نیچے پھر رہی تھی موت تنہا بے قرار
اور یہ کہتی تھی ہر دم عشق سے کرکے خطاب
جا یہاں سے ،یاں ترا کیا کام او خانہ خراب
یہ جگہ ہے دو گھڑی میرے ٹہلنے کے لئے
لطف اٹھانے کے لئے ،جی بہلنے کے لئے
عشق نے پھیلائے پر اڑنے کو اور روکر کہا
اب تو ہے تیرا زمانہ ،جو کہے تو ،ہے بجا
تیری ہستی اس طرح ہے جس طرح سے اک شجر
ڈالتا ہے دھوپ کے وقت اپنا سایہ فلک پر
بس یونہی اس غیر فانی روشنی میں عمر بھی
اک شجر ہے ،اور تو ہے اس کا سایہ واقعی
لیکن اس سایے کو کب ممکن ہے عالم میں بقا
جب شجر گرتا ہے ،ہوجاتا ہے سایہ بھی فنا
تو فنا ہوجائے گی ،مجھ کو بقا ہے بے گماں
تا ابد ہر چیز پر یو نہیں رہوں گا حکمراں
)ٹینی سن (