Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

گو حسن میں تم یکتا ہو ،جلاد نہیں تو کچھ بھی نہیں

گو حسن میں تم یکتا ہو ،جلاد نہیں تو کچھ بھی نہیں

بے داد کے ہم خوگر ہیں بے داد نہیں تو کچھ بھی نہیں

 

دنیا میں اگر جینا ہے ،غم گیں وفسردہ رہنا کیا

دل شاد ہے تو سب کچھ ہے ،دل شاد نہیں تو کچھ بھی نہیں

 

یہ طوق اسیری دیوانو! زینت دہِ گردن کب تک

انساں ہے وہی آزاد ہے جو،آزاد نہیں تو کچھ بھی نہیں

 

اب  دل سے اترے جاتے ہیں ،اگلے وہ چریقے الفت کے

ہر بات میں اک جدت ہو ،ایجاد نہیں تو کچھ بھی نہیں

 

تم وعدہ کرو اور مکرو بھی ،اور اس پر عذرِ نسیاں بھی

میں اس کے سوا کیا اور کہو ،جب یاد نہیں تو کچھ بھی نہیں

 

جب باغ بھی ہے اور بلبل بھی،جب پھول بھی ہیں اور سبزہ بھی

پھر دام نہیں تو کچھ بھی نہیں،صیاد نہیں تو کچھ بھی نہیں

 

اے عشق کے بندو سن رکھو !ہے حسن ہمیشہ ناشنوا

فریاد کرو،فریاد کرو ! فریاد نہیں ، تو کچھ بھی نہیں