Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

تیغِ ہندی

کون سے گوشے میں ہے اے تیغ ِ ہندی  تو نہاں

دھوم تھی تیری روانی کی میانِ دوجہاں

غلغلہ تھا خوں فشانی کا تِری کونین میں

کانپتے تھے تیری ہیبت سے زمین وآسماں

تیرا لوہا آگ برساتا تھا بجلی کی طرح

جس کے شعلے تا فلک جاتے تھے وقتِ امتحاں

تو وہ بجلی تھی کہ تیری آنچ سہہ سکتے نہ تھے

الاماں کا شور رہتا تھا میان ِ انس وجاں

کڑکڑاکر جس طرف گرتی تھی ہنگام ِ نبرد

خاک کرتی تھی جلا کر لہلہاتی کھیتیاں

شعلۂ نار جہنم  تیرے آگے سرد تھا

آگ تھی کچھ اس غضب کی تیرے پانی میں نہاں

اے مجسم قہر ! اے شہپر ِ بال  قضا

اے سراپا فتنۂ حشر ،اے بلائے ناگہاں

خونفشانی کی تری شاہد ہے گردوں پر شفق

لالۂ خونیں کفن بسمل ہیں تیرے بے گماں

میان میں رہتی نہ تھی تو اے حسین ِ شوخ و شنگ

چین بے محشر خرامی تجھ کو دم بھر تا تھا کہاں

جب زمیں پر تجھ کو شوخی سے نہ آتا تھا قرار

پوچھتی تھے جاکے گرُدوں پر مزاجِ قدُسیاں

تیرے دم سے تھے نمونے حشر کے میدان ِ جنگ

چال تیری باندھ دیتی تھی قیامت کا سماں