درد اٹھا تھا نہ ایسا قلب ِ شیدا میں کبھی
یہ ہجوم ِ غم ہو ا ہم پر نہ دنیا میں کبھی
اشک ِ خونیں بارہا آنکھوں سے ٹپکے تھے مگر
اس قدر سرخی نہ تھی خون ِ تمنا میں کبھی
اپنے گھر میں آج ویرانی جو آتی ہے نظر
ہُوکا عالم یہ نہ ہوگا دشت وصحرا میں کبھی
خُشک ہوتا ہے وہ دریائے محبت آہ آہ
جس کی طُغیانی رُکی دم بھر نہ دنیا میں کبھی
سر سے سایہ باپ کا اٹھتے ہوئی مدت مگر
تھا نہ یہ دردِ یتیمی قلب ِ شیدا میں کبھی
مہرِ مادر نے لیا دل ہاتھ میں کچھ اس طرح
ایک آنسو تک نہ تھا چشم تمنا میں کبھی
زندگی ہنستے ہی گزری ،خوش رہے ہر وقت ہم
دل نہ تھا اندیشۂ دنیا وعقبی میں کبھی
صبح ہوتی تھی کہیں اور شام ہوتی تھی کہیں
بزم ِ عشرت میں کبھی ،سیر وتماشا میں کبھی
ہوگیا آغوش ِ مادر بھی جدا آج اے نظؔر
اب ملے گی ایسی راحت پھر نہ دنیا میں کبھی