ذکر الفت پر نتیجہ یہ ہوا تعزیر کا
میں بھی چپ ہوں وہ بھی چپ، عالم ہے اک تصویر کا
آتے آتے رک گیا دم جو مجھ دل گیر کا
آہ بھر کر منتظر ہوں، آہ کی تاثیر کا
وحشیوں کو قید سے چھوٹے ہوئے مدت ہوئی
گونجتا ہے شور اب تک کان میں زنجیر کا
میری تربت پر نہ رو اس طرح او وعدہ خلاف
شوق ٹھنڈا ہو نہ میری خاک دامن گیر کا
زلف ِ لیلائے شب ِ غم ہوتی جاتی ہے دراز
اور ائے دل کیا اثر ہو نالۂ شب گیر کا
توڑ کر پہلو کو نکلا ہے خدنگ ِنازیوں
دل نہیں اک دوسرا پیکاں ہے گویا تیر کا
روتے روتے ہجر میں یاں ہوگئیں آنکھیں سفید
آپ کے نزدیک اک قصہ ہے جوئے شیر کا
صاف باطن ہیں، ہمارا راز الفت کیا چھپے
دل میں عالم ہے یہاں آئینہ تصویر کا
صبح تک دیکھیں دل مہجور کا کیا حال ہو
قصہ ہے پھر آج مشقِ نالۂ شب گیر کا
محو حیرت ہورہا ہوں ،داغ حسرت دیکھ کر
بلبل تصویر ہوں، میں گلشن تصویر کا
مرگیا زنداں میں جب میں وحشئ آتش نفس
بجھ گیا شعلہ چراغ خانۂ زنجیر کا
جان کر ٹھنڈی ہوا وہ چین سے سوئے تو ہیں
دم بھروں کیوںکر نہ آہِ سردِ بے تاثیر کا
شمع ہے بزم جہاں میں کیا ادب آموزِ عشق
لب پہ شکوہ تک نہیں بے رحمی ِ گل گیر کا
موت سے کیا ساز کر رکھا ہے اس نے اے نظؔر
مدتیں گزریں سبب کھلتا نہیں تاخیر کا