جو وہی حسب ِوعدہ شبِ انتظار آئے
تو وہ دل کہاں سے آئے کہ جسے قرار آئے
کہیں اڑ کے تابہ دامن نہ مرا غبار آئے
مری قبر پر جو آئے تو وہ اشک بار آئے
کشش واثر سے خالی نہیں بے کسوں کا مرنا
جو نہ آئے زندگی میں وہ سرِ مزار آئے
مرے تن میں یا الہی یہ ہے جان زار کیسی ؟
جو ہزار بار جائے ،جو ہزار بار آئے
سر بزم کہہ رہی ہے ،یہ نگاہِ مست ساقی
کہ یہاں جو کوئی آئے تو وہ ہوشیار آئے
دمِ صبح بجھتے بجھتے یہ زبان ِ شمع پر تھا
'کہو عہد زندگی کا کسے اعتبار آئے '
مرے نالۂ شبِ غم ہیں رسا بھی نارسا بھی
کہ مکاں سے لا مکاں تک یہ تجھے پکار آئے
مجھے خاک میں ملا دو،مجھے قبر میں سلا دو
مگر ایسی کوئی کروٹ ،کہ مجھے قرار آئے
یہ بہار بلبلوں کو رہے ہر برس مبارک
تری یاد اے جوانی ! مجھے بار بار آئے
کبھی دامن اس نے رکھا نہ ہماری چشم نم پر
ہے ان آنسووں پہ حسرت جو ہزار بار آئے
مری قبر پر یہ لکھ دو کہ یہ کشتہ جفا ہے
ملے اس کو درس ِ عبرت جو سرِ مزار آئے
ہے جہاں میں پر خطر کیا یہ حیات چند روزہ
کہ چمن میں گل جو آئے ،سر ِ نوک ِ خار آئے
کبھی اس طرف بھی آنا ،کبھی اس کو دیکھ جانا
جو نظؔر کی بے کسی کا تمہیں اعتبار آئے