Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

تعارف

ساجدہ زیدی

ساجدہ زیدی کی ولادت 18مئ 1926کو میرٹھ کے ایک امیر، خوشحال علمی وادبی گھرانے میں ہوئ ۔ ساجدہ زیدی کے والد سید محمد مستحسن زیدی نے کیمبرج یونیورسٹی لندن سے 1936 میں بیرسٹر ی کی ڈگری حاصل کی تھی، وہ ایک مشہور ریاضی داں تھے اور انھیں اردو زبان و ادب پر بھی گہرا عبور حاصل تھا ۔ اسی علمی ذوق کی بنا پر انھوں نے اپنی بیٹیوں کو سعدی ، حافظ ،غالب ، میر اور اقبال کے کلام کو بچپن میں ہی حفظ کرا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ساجدہ زیدی بچپن سے ہی ان شخصیات کے نام اور کارناموں سے واقفیت رکھتی تھیں ۔ یہ ان کی بد قسمتی تھی کہ ایک مشفق اور صاحب علم باپ کا سایہ بہت جلد ان کے سر سے اٹھ گیا ، لیکن ان کی والدہ مختار فاطمہ ( جو خود بھی شاعرہ تھیں اور ان کے دو مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں ) نے تمام مشکلات کے باوجود اپنی بیٹیوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی ۔

شاعری ساجدہ کے شرست میں شامل تھی کیونکہ ان کے دادا صاحب دیوان شاعر تھے اور خاندان میں کئ شاعر گزر چکے تھے۔ ان کے خاندان سے زیادہ ننہال میں علم وادب کا بول بالا تھا ۔ مولانا الطاف حسین حالی (پر نانا) خواجہ غلام الثقلین (نانا) خواجہ غلام السیدین (ماموں) صالحہ عابد حسین (خالہ) اور خواجہ احمد عباس (ماموں) وغیرہ ان کے ننہالی بزرگ تھے، ساجدہ زیدی کی زندگی کے کئی ماہ و سال انھیں شخصیات کے ارد گرد گزرے تھے  اور ان شخصیات کی صحبت سے انھوں نے بہت فیض حاصل کیا تھا۔

ساجدہ زیدی کی ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی۔ والد کے انتقال کے بعد آپ والدہ کے ساتھ ننہال (پانی پت) چلی گئیں اور وہاں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اس کے بعد نویں جماعت کے لئے علی گڑھ آ گئیں ۔ یہاں آپ نے ایم ۔ایڈ تک تعلیم حاصل کی، دوران تعلیم ہی آپ کی شادی رام پور کے نواب قیصر زیدی سے ہو گئی جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مدرس تھے ۔ شادی کے بعد آپ نے 1948میں بی  اے، 1950 میں بی ایڈ اور 1952 میں ایم ایڈ اعلی نمبرات سے پاس کیا۔ 1952 میں بحیثیت لیکچرر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آپ کا تقرر ہوا ۔ دوران تدریس 1966 میں آپ پڑھائی کے لیے چھٹی ( study leaves) لے کر لندن روانہ ہوگئیں اور وہاں سے تخلیقی نفسیات کے موضوع پر ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔

ساجدہ زیدی شعر و ادب کی دلدادہ تھیں ، شاعری کا ملکہ آپ کو خداداد  ملا تھا ۔ مطالعہ کی بے حد شوقین تھیں، کم عمری میں ہی تمام اہم کتابوں کا مطالعہ کر لیا تھا۔ آپ کے ادبی سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب ترقی پسند تحریک پورے آب و تاب کے ساتھ اردو ادب پر پھیلی ہوئی تھی، آپ بھی اس تحریک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں اور عملی طور پر اس کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا، لکھنؤ اترپردیش میں حکومتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے کی پاداش میں آپ کو جیل بھی جانا پڑا ۔ آپ ایک نڈر اور بے باک خاتون تھیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری میں بھی ظلم و استحصال کے خلاف جرأت مندانہ اظہار بیان جابجاملتا ہے ۔

ساجدہ زیدی کی شاعری میں ان کی زندگی میں پیش آنے والے حوادث اور واقعات کا گہرا اثر ہے۔ فلسفۂ وجودیت، اپنی ذات کی تلاش اور اپنی شخصیت کا پتہ پانے کے لئے وہ ساری زندگی کوشاں رہیں، فلسفۂ حیات کو پروقار انداز اور نئے لب و لہجہ میں پیش کرنے کا فن انھیں خوب آتا ہے ۔ تلاشِ ذات ، تلاشِ معنی اور کائنات کے بارے میں سوالات اٹھا کر ان کے جوابات تلاش کرنے کی جستجو ان کی شاعری کا اہم خاصہ ہے۔ ساجدہ زیدی اپنی شاعری کے متعلق خود رقمطراز ہیں :

"ساجدہ زیدی کی شاعری تلاشِ ذات، انکشافاتِ ذات کا ایسا سفر ہے جس کی حدیں عرفانِ کائنات سے جا ملتی ہیں۔ اس کی شاعری میں شعورِ ذات عرفان کائنات سے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں، اس کی داخلی وارداتیں بھی کائناتی ڈائمنشن رکھتی ہیں اور اس کا عشق بھی ذاتی حدوں سے ماورا پہنچ جاتا ہے ۔

ساجدہ کی شاعری وجودی اضطراب اور روحانی تڑپ کی شاعری ہے اس نے زندگی کو ایک عاشق کی نظر سے دیکھا ہے جس میں ہجر و وصال ، نشاط کے سب ہی رنگ شامل ہیں

آپ کا شعری وادبی سفر تقریباً چھ دہائیوں پر محیط ہے ۔ یکے بعد دیگرے شعری مجموعے منظر عام پر آئے اس کے علاوہ تخلیقات میں ناول ، تنقیدی مضامین ، ڈرامے اور خود نوشت بھی شامل ہیں ۔ آپ کی تخلیقات اور ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو امتیاز میر ایوارڈ ، اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈ ، بہار اردو اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

ایک آزاد ذہن اور بے باک خاتون جنھوں نے اپنی تخلیقات سے اردو ادب کو ایک نئی فکر اور سوچ عطا کی 9 مارچ 2011 کو دبئ میں اپنے محبوب حقیقی سے جا ملیں ۔ دبئ سے جسد خاکی علی گڑھ لایا گیا اور یونیورسٹی کے قبرستان میں مدفون ہوئیں انھوں نے اردو ادب کے لئے جو اثاثہ چھوڑا وہ اس طرح ہے:

1.   جوئے نغمہ (شاعری ) 1952

2.    آتش سیال (شاعری) 1972

3.   سیل وجود   ( شاعری ) 1980

4.    آتشِ زیرِ پا ( شاعری )1995

5.   پردہ ہے ساز کا (شاعری ) 1995

6.    موج ہوا پیچاں ( ناول)1994

7.    مٹی کے حرم (ناول)2000

8.   تلاشِ بصیرت ( تنقیدی مضامین )1993

9.   گزرگاہ خیال (تنقیدی مضامین ) 2007

10. سرحد کوئ نہیں (ڈرامے)2007

11.  چاروں موسم (ترجمہ و ماخوذ ) 1992

12. شخصیت کے نظریات - 1984

13.  انسانی شخصیت کے اسرار و رموز

اے آخر شب کے چاند بتا , کیا اس نے بھی مجھ کو یاد کیا 

کیا اس کے بھی دل کے گوشوں میں مدھم مدھم طوفان اٹھا

بیتے ہوے لمحوں کی لذت کیا اس کے بھی جی کا روگ بنی؟

کیا اس نے بھی کشت ارماں کو اشکوں سے یوں ہی سیراب کیا ؟


کیسے اس شہر خرابی میں بسر کی ہم نے

کل جو آئیں گے وہ انگشت بدنداں ہوں گے


تری راہوں میں یہ اک دل تو کیا دس دل لٹا دیتی
مگر اس نا رسائ ,نا پزیرائ کو کیا سمجھوں


ترے بغیر ہر اک آرزو ادھوری ہے

جو تو ملے تو مجھے کوئی آرزو نہ رہے


یہ شبِ دراز کٹتی، یہ کڑا سفر گزرتا

کوئی حرفِ وعدہ ہوتا کہ سحر کو شام کرتے