Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ساجدہ زیدی

زھراب

ہاں ترے روئے دل آرام کا دھندھلا سا خیال

آج دلجوئ پہ مائل ہے مگر

اب تو زہراب ہے شریانوں میں

قطرہ قطرہ جسے ہر لمحے نے ٹپکایا ہے

وہ تو گردش بھی کرے

دل میں سمٹ بھی آئے

تب بھی اس مرکز آلام میں

اس شے کا گزر مشکل ہے

جس کا مژدہ تری آمد تھی کبھی