ہاں ترے روئے دل آرام کا دھندھلا سا خیال
آج دلجوئ پہ مائل ہے مگر
اب تو زہراب ہے شریانوں میں
قطرہ قطرہ جسے ہر لمحے نے ٹپکایا ہے
وہ تو گردش بھی کرے
دل میں سمٹ بھی آئے
تب بھی اس مرکز آلام میں
اس شے کا گزر مشکل ہے
جس کا مژدہ تری آمد تھی کبھی