Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ساجدہ زیدی

ہم نے اک عمر میں کیا کیا نہ جہاں دیکھے ہیں

ہم نے اک عمر میں کیا کیا نہ جہاں دیکھے ہیں

آسماں دیکھے ہیں اور قعر نہاں دیکھے ہیں

 

جن کی باتوں میں تجلی تھی خموشی میں طلسم

وہی ارباب ہنر سوختہ جاں دیکھے ہیں

 

نغمہ‌ و شعر و زباں اہل سیاست کے قتیل

پوری تہذیب کے مٹنے کے نشاں دیکھے ہیں

 

اقتدار‌‌ و ہوس و شور و منافق نظری

جن کا شیوہ رہا وہ پیر مغاں دیکھے ہیں

 

جنس ارزاں کی طرح بکتے ہوئے اہل قلم

اشتہاروں میں سجے گل بدناں دیکھے ہیں

 

جن سے تاریخ کے صفحات بھی جاگ اٹھتے تھے

وہ زمانے وہ فسانے گزراں دیکھے ہیں

 

وہ حکایات رقم کیں کہ قلم خوں رویا

ہر رگ تاک پہ زخموں کے وہاں دیکھے ہیں

 

ایک اک حرف سے روشن ہوئے جاتے تھے افق

آئنے سحر دبستاں میں نہاں دیکھے ہیں

 

جن کی جادو اثری طعنۂ احباب بنی

وہ طلسمات لکھے حرف و بیاں دیکھے ہیں

 

جن کی تعبیر میں اک عمر گنوا دی ہم نے

راز وہ سینۂ گیتی میں نہاں دیکھے ہیں

 

جلتے بام و در و دیوار سلگتے ہوئے شہر

جن سے پتھرا گئیں آنکھیں وہ سماں دیکھے ہیں

 

آسماں گیر تھے شعلے خس و خاشاک تھے جسم

قید بے جرم میں سب پیر و جواں دیکھے ہیں

 

دل نے ہر ذرہ کے ہم راہ دھڑکنا سیکھا

تب نواؤں میں یہ معنی کے جہاں دیکھے ہیں