یہ بادِسحر کا اشارہ
سرمئ شام کا تنہا ستارہ
یہ چڑیوں کی چہکار
بادل کی یلغار ہے
یہ جؤبارِ کہستان کی رفتار
یہ طائرانِ نواسنج کی آسمانوں میں پرواز
ہستی کی گہرائ میں گونجتی
حرفِ اقرأکی آواز۔۔۔
یہ سمندر کا حیرت کدہ
تپتے سہراؤں کا حُسنِ عُریاں
یہ سات آسمانوں پر
سیارگاں کی سبک سار لرزش
کہساروں کے اَسرار
اور۔۔۔ برف زاروں کی شفاف رعنائیاں
عناصر کی نیرنگیاں
دستِ قدرت کی صناعیاں
شِرق و غُُرب
آکاش سے خاک تک
حرفِ کُن کی سحر کاریوں کا سماں۔۔۔
یہ دنیائے وحدت
کہ جس نے مجھے درد کا ساز دے کر
میری آواز کو
حسنِ فطرت کا اعجاز دے کر
مری روح میں
نورونغمہ کی اک سِمفنی سی جگا دی
میں اِس رنگ اور نور کے کارخانے میں
اِک چشمِ حیراں بھی ہوں
مست ورقصاں بھی ہوں
حرفِ گِریاں بھی ہوں
اِس کے جلوں میں شامل بھی ہوں
اِس کی رفتاروحرکت کی حامل بھی ہوں
مری دل میں جو درد کی راگنی ہے
مرے حرفِ صو ت و سدا میں جو وجدان کی روشنی ہے
اِسی بزمِ اَسرارِ فِطرت کی جلوہ گری ہے
اِسی معنئ بیکراں کی خلِش ہے
تمنا کی اک آتشِ جاوداں کی تپِش ہے