Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ساجدہ زیدی

صبا میں مست خرامی گلوں میں بو نہ رہے

صبا میں مست خرامی گلوں میں بو نہ رہے

ترا خیال اگر دل کے روبرو نہ رہے

 

ترے بغیر ہر اک آرزو ادھوری ہے

جو تو ملے تو مجھے کوئی آرزو نہ رہے

 

ہے جستجو میں تری اک جہاں کا درد و نشاط

تو کیا عجب کہ کوئی اور جستجو نہ رہے

 

تری طلب سے عبارت ہے سوز و حیات

ہو سرد آتش ہستی جو دل میں تو نہ رہے

 

تو ذوق کم طلبی ہے تو آرزو کا شباب

ہے یوں کہ تو رہے اور کوئی جستجو نہ رہے

 

کتاب عمر کا ہر باب بے مزہ ہو جائے

جو درد میں نہ رہوں اور داغ تو نہ رہے

 

خدا کرے نہ وہ افتاد آ پڑے ہم پر

کہ جان و دل رہیں اور تیری آرزو نہ رہے

 

ترے خیال کی مے دل میں یوں اتاری ہے

کبھی شراب سے خالی مرا سبو نہ رہے

 

وہ دشت درد سہی تم سے واسطہ تو رہے

رہے یہ سایۂ گیسوئے مشک بو نہ رہے

 

کرو ہمارے ہی داغوں سے روشنی تم بھی

بڑا ہے درد کا رشتہ دوئی کی بو نہ رہے

 

نہیں قرار کی لذت سے آشنا یہ وجود

وہ خاک میری نہیں ہے جو کو بہ کو نہ رہے

 

اس التہاب میں کیسے غزل سرا ہو کوئی

کہ ساز دل نہ رہے خوئے نغمہ جو نہ رہے

 

سفر طویل ہے اس عمر شعلہ ساماں کا

وہ کیا کرے جسے جینے کی آرزو نہ رہے