Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ساجدہ زیدی

عورت

میرے احساس کی وادی میں کلیاں مسکراتی ہیں
مگر میں چن نہیں سکتی
میں لمحوں میں سفر کرتی ہوں
تبندہ اُفق کے اس کنارے تک
جہاں آکاش دھرتی کو چومتا ہے
سانس لیتا ہے
میرے ہاتھوں کی ریکھاؤں میں
جانے کیسی زنجیریں پڑیں
روزِ اوّل سے
میں زنجیرِ آہن توڑ کر
روزِ ابد تک جا نہیں سکتی
میں کلیاں چن نہیں سکتی

مرے جذبوں کے نخلستان میں سبزہ سر اُٹھاتا ہے
ہوا دھیمے سُروں میں گنگناتی ہے
فضائیں رقص کرتی ہیں
خدا آواز دیتا ہے
میں سر نیہوڑا کے سنتی ہوں
دیار روح میں اک ان سنا نغمہ مچلتا ہے
میں اس نغمے کو لب تک لا نہیں سکتی
مری تپتے بدن پر
سبز شاخوں کی پھواریں سوکھ جاتی ہیں
مری آنکھوں کی جھیلوں میں
منور لارجوردی آسماں کا عکس ہوتا ہے
اُفق کے پار اک کھڑکی سی کھلتی ہے
سوادِ وقت کی ساری طنابیں ٹوٹ جاتی ہیں
مگر یخ بستہ دیواریں
مجھے ہر سمت سے یوں گھیر لیتی ہیں
میں پروازِ تمنّا کر نہیں سکتی
مری آنکھوں کو نیلا آسماں حسرت سے تکتا ہے

کئی عمریں گزار آئی
کئی دنیائیں چھان آئی
کئی صحراؤں میں نقشِ قدم چھوڑے
کئی دریا لہو کے پار کر آئی
کئی آتش کدوں میں جذب دل کندن بنا آئی
مگر اب بھی مری زنجیر آہن کھڑکھڑاتی ہے

مجھے جب جب بھی نیلا آسمان حسرت تکتا ہے
میں اپنے آتش دل سے جلا دیتی ہوں
اس زنجیر کی کڑیاں
ستاروں تک پہنچتی ہوں
مدارِ نور میں مہتاب کی ہم رقص ہوتی ہوں