Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ساجدہ زیدی

پہلا نشان

میری کوکھ میں میرے عشق ومحبت کا

پہلا نشاں پل رہا تھا

وہی غنچۂ ناشگفتہ

میری آتما چیر کر

مرے پیٹ سے نوچ ڈالا گیا

اسے نوک نیزہ پہ پہلے اچھالا گیا

پھر دہکتے ہوئے آسماں گیر شعلوں میں ڈالا گیا

مرا درد آنکھوں سے ڈھلنے سے پہلے

مرے جسم کی بوٹیاں راستوں پر بکھیری گئیں