کبھی محسوس ہوتا ہے
میں خوشبو ہوں
میں نغمہ ہوں
میں خود معصوم ہونٹوں کی ہنسی ہوں
دل کی دھڑکن ہوں
اک درد ہوں
سوزمجسم ہوں
میں ہر زرہ میں دل بنکر دھڑکتی ہوں
میں ایسی چشم بینا ہوں
نظر بھی اور نظارہ بھی جس میں ایک ہو جائں
یہ سب ترتیب عالم
مرے احساس کا مظہر
مری ہی آگہی کا ایک پر تو ہے
میں آنکھیں بند بھی کر لوں تو نظارہ رہے باقی
میں اپنے ہونٹ بھی سی لوں
تو میرے نطق کی گرمی سے ہر محفل پگھل جائے .
میں ایک سیال شے ہوں
خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے
جو, ہر شے کی بے پایاں حقیقت میں
کبھی لگتا ہے
میرے چاروں جانب بیکراں گہرا اندھیرا ہے
میں لاکھوں سال سے ہوں غوطہ زن
تنہائیوں ,تاریکیوں کے ایک بے پایا ں سمندر میں
یہ سارے فلسفے , یہ آگہی اور فکر کے رشتے
یہ تہزیب وتمدن کے بلند آہنگ ہنگامے
مزاہب اور سیاست کی فسوں کاری
یہ سب مجزوب کی بڑ ہیں
یہ ساری کائنات اک وہم ہے
اک نامکمل نقش ہے
تخلیق بے مقصد ہے ,بے معنی ہے,
جانے کیوں ہے اور کیا ہے,
میں اک بے مایہ نقطہ
آج ہوں موجود , کل نابود ہو جاؤں گی
سطح ہست وامکاں سے
لاکھوں نقطے میری ہی مانند ہیں
مجہول اور بے بس
میری ہستی میں میری نیستی میں فرق ہی کیا ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
میرا خالق بھی میری ہی طرح
اندھا ہے, بہرہ اور گونگا ہے