Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ساجدہ زیدی

وجدان

کبھی محسوس ہوتا ہے

میں خوشبو ہوں

میں نغمہ ہوں

میں خود معصوم ہونٹوں کی ہنسی ہوں

دل کی دھڑکن ہوں

اک درد ہوں

سوزمجسم ہوں

میں ہر زرہ میں دل بنکر دھڑکتی ہوں

میں ایسی چشم بینا ہوں

نظر بھی اور نظارہ بھی جس میں ایک ہو جائں

یہ سب ترتیب عالم

مرے احساس کا مظہر

مری ہی آگہی کا ایک پر تو ہے

میں آنکھیں بند بھی کر لوں تو نظارہ رہے باقی

میں اپنے ہونٹ بھی سی لوں

تو میرے نطق کی گرمی سے ہر محفل پگھل جائے .

میں ایک سیال شے ہوں

خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے

جو, ہر شے کی بے پایاں حقیقت میں

کبھی لگتا ہے

میرے چاروں جانب بیکراں گہرا اندھیرا ہے

میں لاکھوں سال سے ہوں غوطہ زن

تنہائیوں ,تاریکیوں کے ایک بے پایا ں سمندر میں

یہ سارے فلسفے , یہ آگہی اور فکر کے رشتے

یہ تہزیب وتمدن کے بلند آہنگ ہنگامے

مزاہب اور سیاست کی فسوں کاری

یہ سب مجزوب کی بڑ ہیں

یہ ساری کائنات اک وہم ہے

اک نامکمل نقش ہے

تخلیق بے مقصد ہے ,بے معنی ہے,

جانے کیوں ہے اور کیا ہے,

میں اک بے مایہ نقطہ

آج ہوں موجود , کل نابود ہو جاؤں گی

سطح ہست وامکاں سے

لاکھوں نقطے میری ہی مانند ہیں

مجہول اور بے بس

میری ہستی میں میری نیستی میں فرق ہی کیا ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے

میرا خالق بھی میری ہی طرح

اندھا ہے, بہرہ اور گونگا ہے