بہت عرصہ ہوا
ایک نیم جاں مدھم سی چنگاری سے ہم نے بھی
دہکتا, جگماتا , ایک عجب شعلہ جلایا تھا
کہ جس کی آنچ سے پتھر پگھل جاتے تھے دل بنکر
کہ جس کی لو,جلا دیتی تھی راتوں کا سیہ دامن
کہ جس کی گرم آتش کا سمندر
سرد, یخ بستہ فضاؤں میں بھی
طوفاں خیز رہتا تھا...... ...
وہ شعلہ جل بجھا کب کا
اب اس کی راکھ بھی شائد
کہیں راہوں کے زروں میں بکھر کر کھو گئ ہو گی
لیکن ........
وہ چنگاری سنا ہےا ب بھی
لمحوں کے کھنڈر میں
گاہے گاہے جھلملا اٹھتی ہے راتوں کی سیاہی میں
بھٹکتی روح ہو جیسے ,کوئ صدیوں سے آوارہ