ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدی حسن تھا،ان کی پیدائش دہلی میں 12 اکتوبر 1938ء کو ہوئی ،ان کے والد مرتضی حسن ریلوے میں ملازم تھے،اصلی وطن علی گڑھ کا ڈبائی نامی علاقہ تھا، ان کے والد شاعر بھی تھے اور دعا ڈبائی کا تخلص بھی رکھتے تھے،ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی ، دینی تعلیم کے بعد وی سی ہائی اسکول مادھوگنج گوالیار کے اسکول میں داخلہ لیا یہاں ان کے استاد ماسٹر ریاض الدین تھے یہ ان کے والد کے دوست اور شاعر تھے ، ان کے والد اورماسٹر ریاض الدین نوح ناروی کے شاگردوں میں سے تھے ، نوح ناروی داغ کے مشہور تلامذہ میں سے ایک ہیں،ریاض الدین جبوری کے نام سے شعر کہتے تھے ، ریاست سندھیا کے سبھی اسکولوں میں انہیں کا تخلیق کردہ ترانہ پڑھا جاتا تھا، ان کی تربیت نے خاطر خواہ اثر کیا، ان کو شاعری وراثت میں ملی،گھر میں ادبی ماحول تھا ان کے والد کے دوستوں کی اکثریت شعراء کی تھی ، ان کی صحبتوں نے ان کے اندر شعری ذوق کو جلا بخشی اور کم عمری سے ہی مشق سخن کرنے لگے،1960ء میں ان کا پورا خاندان پاکستان ہجرت کرگیا،ندا اکیلے بھارت میں رہ گئے، ان کا گھر بار سبھی کچھ چھن گیا، انہوں نے گوالیار کالج سے اردو میں ماسٹرز کیا جب ان کی فیملی پاکستان ہجرت کررہی تھی اس وقت وہ ایم اے کے سال آخر میں زیر تعلیم تھے،انہوں نے اپنا مسکن کمیونسٹ پارٹی کے دفتر کو بنایا اور ذریعہ معاش کیلئے ایک نائٹ کالج میں انگریزی کے درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے لیکن نوکری طبیعت کو راس نہیں آئی اس کے بعد کچھ دنوں تک دہلی میں بھی قسمت آزمائی کی لیکن ناکام رہے، اس کے بعد 1965ء میں ممبئی کا رخ کیا اور وہاں رسالہ دھرم یگ اور ہفتہ وار بلٹز میں کالم نگار ی کرنے لگے ،ممبئی میں ان کی راہ کانٹوں بھری تھی لیکن اپنی محنت اور لگن سے اپنی ایک الگ شناخت بنائی ، وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور ساتھ ہی جدیدیت کے بھی حامی رہے ۔
ندا فاضلی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے بہترین نثرنگار،نغمہ نگار،مترجم اور شاعر تھے،بنیادی طور وہ نظم کے شاعر تھے انہوں نے نظم،غزل،گیت اور دوہے جیسی اصناف سخن پر طبع آزمائی کی،ان کی نظمیں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں، انہوں نے اپنی نظموں میں اپنے مشاہدات اور وسیع مطالعہ کے ذریعے گہرے نقوش ثبت کئے،کیونکہ خود ان کی اپنی زندگی نشیب وفراز،دکھ درد، پریشانی، بےسروسامانی، بے گھری،بےروزگاری جیسے حالات اورتجربات سے دوچار تھی ایک حساس دل ان تکلیفوں کو بخوبی محسوس کرتا ہے لیکن اگر اس حساس طبیعت کا مالک ایک شاعر ہو تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ صفحۂ قرطاس پر وہ ان رنگوں کو نہ بکھیرے اور اپنی تخلیق کا ذریعہ نہ بنائے، ندافاضلی لکھتے ہیں کہ "میرے تخلیقی عمل میں میرا موضوع وہی دنیا رہی ہے جو مجھے دکھائی دیتی ہے یا جسے دیکھنے پر میں مجبور کیا گیاہوں"ان کی شاعری کا لب ولہجہ متحرک ،تازہ اور کبھی نہ ختم ہونے والی آواز ہے، ندا فاضلی نے زندگی کے تمام پہلوؤں پر نظمیں لکھیں اور نئے نئے تجربات کئے ، انہوں نے شاعری کی ابتدا نظموں سے کی اسی لئے غزل کے مقابلے ان کی نظموں میں زیادہ گہرائی پائی جاتی ہے، مشتاق مومن لکھتے ہیں" یہ صحیح ہے کہ ندا کی شاعری میں استحکام ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ان کی بہت سی نظمیں صرف Statement ہیں ، بہت سی نظمیں فارسی اور دوسری زبانوں کے اقوال زریں سے ماخوذ ہیں"، ان کی نظموں میں سماجی معنویت کے علاوہ عصری آگہی اور ذات کے کرب کا احساس نئی نئی علامتوں کے ساتھ ہر جگہ ملتاہے ،انہوں نے رشتوں کو بھی موضوع سخن بنایا،فطرت مناظر پر بھی سخن سنجی کی ،ان کی شاعری خالص ہندوستانی لب ولہجہ سے شرابور تھی یہیں کی مٹی کی بوباس اور یہیں کی خوشبو سے معطر تھی ان کی شاعری میں وطن کی خوشبو کا پیارا اور حسین احساس بہت ہی نمایاں ہے، انہوں نے رومانیت سے بھر پور نظمیں بھی کہیں جو حسن وعشق کی حرارت اور محبت کا نغمگیں احساس سمیٹے ہوئے ہیں، ان کی نظموں میں جنسیات کے جزوی عناصر بھی ملتے ہیں، بشر نواز لکھتے ہیں کہ"ندا فاضلی کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے کرتب بازیوں اور لفظوں میں جنہیں جدید شاعری کے ابتدائی دور میں مکتبی قسم کے نقادوں کا اعتبار حاصل تھا الجھے بغیر اپنا لہجہ پالیا وہ اپنے موضوع اور لہجے کو ہم آہنگ کرنے کا ہنر جانتے ہیں اور اپنے انداز واسلوب سے جدید شاعری کی بھیڑ میں الگ سے پہچانے جاتے ہیں"، اور یہی مقناطیسیت ان کی شاعری کا خاص وصف ہے، ان کے سبھی اصناف سخن میں لفظ'گھر' ہر جگہ نمایاں ہے چاہے غزل ہو،نظم ہو،گیت ہو،دوہے ہوں،ان کی ہر تخلیق میں اس کو اہمیت حاصل ہے، انہوں نے گھر کو نئے نئے معانی اور نئے نئے استعاروں میں پیش کیا اور یہی ان کی شاعری کا بنیادی استعارہ بھی بنا، ان کی شاعری زندگی کی تصویر ہے جس میں ماحول، فضا، بازار کی رونق اور پوری ایک دنیا آباد ہے ، انہوں نے دیہی طرز زندگی سے لیکر تیز رفتار زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بھی پیش کیا ، ان کی شاعری مقدس آسودگی کی شاعری ہے،ان کے منفرد موضوعات اور زندگی کے مختلف عنوانات پر جو نظمیں پائی جاتی ہیں وہ کسی دوسرے شاعر کے یہاں نہیں ملتی،انہوں نے اپنی نظموں میں نئی نئی علامتوں کا استعمال کیا علامتوں کے ذریعہ اپنی نظموں اور غزلوں میں تہہ داری اور معنویت میں اضافہ کیا ، انہوں نے اردو غزل کو نہ صرف نیا لہجہ دیا بلکہ غزل کو فکر ومعانی کے وہ گوہر عطا کئے جو ان کو جدید غزل گوئی میں ممتاز کرتی ہے، ان کی شاعری کی سبھی اصناف پر ہندی شاعری کا اثر ہے،احتشام اختر کے مطابق"ان کی شاعری پر ہندی اسلوبیات کا گہرا اثر ہے،ہندی کلاسیکی شعراء کے علاوہ ذاتی طور پر سوم ٹھاکر اور اوم پربھاکر کا گہرا اثر قبول کیا"،انہوں نے غزل میں بھی زندگی کے مختلف تجربات کو پیش کیا،ان کی شاعری آپ بیتی اورآنکھ بیتی کی عکاس و ترجمان ہے.
ندا فاضلی کے دوہوں کی بندشیں نہایت چست اور ان میں فنی پختگی پائی جاتی ہے،ان کے دوہوں کا موضوع روزمرہ کی زندگی کے عام مسائل ہیں،اس میں روانی ہے،ان کے دوہے علامات اور جدید تشبیہات و استعارات کے ساتھ سادہ اور عام فہم ہیں، ان کو پر اثر بنانے میں انہیں قدرت حاصل ہے، ان کے دوہوں میں فکری وسعت ہے ، ان میں ہندوستانی تہذیب،مٹی کی مہک،اپنی دھرتی سے پیار کا احساس ہے، سلیم انصاری لکھتے ہیں کہ "ندا فاضلی دوہوں کو اس طرح تخلیق کرتے ہیں کہ ہر دوہا غزل کا منفرد مطلع محسوس ہونے لگتا ہے،انہوں نے جدید منفرد غزل کے بیشتر موضوعات کو دوہے کے وسیلے سے پایہ اظہار تک پہچاننے کا خوبصورت فریضہ انجام دیا ہے"،انہوں نے اس صنف میں بھی اپنی انفرادیت کو قائم کیا.
ندا فاضلی بحیثیت نغمہ نگار بھی الگ مقام رکھتے ہیں، انہوں نے فلموں،ٹی وی سیریلوں اور ٹیلی فلموں کیلئے معیاری گیت لکھے،انہوں نے روپہلے پردہ کیلئے تقریبا تین دہائیوں سے زائد عرصہ کام کیا،انہوں نے نغمہ نگاری کو ذریعہ معاش تو بنایا لیکن ادبی معیار سے کبھی سمجھوتہ نہ کیا،انہوں نے جن فلموں کیلئے گیت لکھے ان میں رضیہ سلطانہ،آہستہ آہستہ،آپ ایسے تو نہ تھے ،سرفروش، بیوی او بیوی، گڑیا وغیرہ شامل ہیں،ان کی غزلوں کو جگجیت سنگھ نے بھی گایا جو بہت ہی مشہور اور زبان زد خاص وعام ہیں،انہوں نے گیتوں کو نیا انداز بخشا اور شاعری میں گیتوں کی اہمیت کا احساس دلایا،انہوں نے گیتوں میں زمینی کیفیت پر بات کی،ان کے گیت انسان اور زمین کے تعلق سے مضبوط رشتے کی گواہی دیتے ہیں،انہوں نے اپنے گیتوں میں جوش جذبات کے بجائے غوروفکر سے کام لیا، انہوں نے اپنے گیتوں میں روزمرہ بولی جانے والی زبان،سادہ الفاظ اور آسان لہجہ اختیار کیا،پریمی رومانی کے مطابق"ندا فاضلی نےاردوگیت کو نئے آہنگ اور معنویت سے آشنا کیا ہے،ان کا کمال یہ ہے کہ وہ گیت مشینی دور سے لی گئی زبان ولہجہ سے کام لیتے ہیں،ان کا لہجہ نرم،کومل اور احساسات سے بھر پور ہے، ان کی زبان فارسیت کے اثر سے آزاد ہے،وہ سادہ اور روزمرہ بولی جانے والی زبان کا تخلیقی لمس عطا کرتے ہیں،ان کا لب ولہجہ سب سے جداگانہ ہے،یہی وجہ ہے کہ ان کے گیتوں میں عمل اورردعمل دونوں کیفیات ملتی ہیں،ان کے گیتوں کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ ہر انسان کو اپنی دھڑکن سنائی دیتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس کے اندر کی آواز ہے،ان کے گیتوں میں پختہ کاری بھی ہے اور جذبات نگاری بھی ہے"، ان کی شاعری میں ہندی لب ولہجہ اور اردو کی منجھی ہوئی جدید زبان کے خوبصورت امتزاج نے ان کی شاعری کے لب ولہجہ کو نیا رنگ عطا کیا جو ان کی نظموں،غزلوں،دوہوں اور گیتوں میں زیادہ نمایاں ہے، انہوں نے شاعری کی جن اصناف پر طبع آزمائی کی اس کو نئی جہت،ہئیت اور تروتازگی سے ہمکنار کیا اور اپنی ذہانت اور وسعت اور قادرالکلامی کا ثبوت پیش کیا،اسی لئے ہر مقام پر اپنے خود کے اسلوب اور انداز کی منفرد فضا کو بکھیرتے چلے گئے.
ندا فاضلی نے نثر میں بھی اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا، ان کا نثری طرزنگارش بھی ادبی لحاظ سے ایک خاص اور منفرد لہجہ اور اسلوب کا حامل ہے،ان کے انٹرویوز ،خودنوشت، تبصرے،تراجم میں ان کی تخلیقی نثر ملتی ہے جو انہیں بہترین نثرنگاروں کی اولین فہرست میں جگہ دیتی ہے، ان کے سوانحی ناول تخلیقی نثر اور ناول کے فارم پر ان کی قدرت و گرفت کے مظہر ہیں، ان کے ناولوں کی شفاف نثر اور معروضی فکشن نے اردو ادب کے باب میں نیا اضافہ کیا، ان کی نثر میں روانی ہے، ایک ایک جملہ معنی خیز اور چھوٹے چھوٹے علامتی انداز،استعاروں کے ذریعہ اچھوتے پن اور دلکش انداز میں بیان کرنے میں مہارت رکھتے ہیں،ان کا نثری اسلوب اور انداز بیان اور کلاسیکی ادب کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوں کے ادب پر گہری نظر اور وسیع مطالعہ کی غماز ہے، انہوں نے ترجمہ نگاری میں بھی اپنی نثری تخلیقی شعور کا ایسا استعمال کیا کہ ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا بلکہ اصل کا گمان ہوتا ہے،ڈاکٹر عنوان چشتی لکھتے ہیں کہ"ندا فاضلی کی نثر میں ایک خاص ذائقہ اور البیلہ پن ہے اس کا سبب یہ ہے کہ وہ بلا کا ذہین اور شریر ہے،ندافاضلی خود پر طنز ہی نہیں کرتا بلکہ بازاروں میں برہنہ ہونے کی جسارت کرلیتا ہے،اس لئے کبھی کبھی دوسرے کے کپڑے بھی اتروا دیتا ہے جس پر لوگ منھ بناتے ہیں،یہ سارا کام وہ عام بول چال کی زبان اور اکہرے لکچدار اور رسماتے ہوئے اسلوب میں بیان کرتا ہے"،اور اسی اسلوب کے ندافاضلی موجد تھے.
ندا فاضلی کو انکے ادبی اعتراف میں مختلف ایوارڈز بھی ملے جن میں پدم شری برائے ادبی خدمات، غالب ایوارڈ برائے ادب،ساہتیہ ایوارڈ برائے 'کھویا ہوا ساکچھ' ،ساہتیہ پریشد پرسکاربرائے 'ملاقاتیں' ،اسکرین ایوارڈ برائے 'سر' اس کے علاوہ ادبی و ثقافتی تنظیموں کے ایوارڈز اور اعزازات بھی شامل ہیں،مذہبی رواداری کیلئے بھی بہت سے اعزازات سے نوازے گئے، مہاراشٹر حکومت نے انہیں میر تقی میر ایوارڈ سے بھی نوازا، انہوں بیرون ممالک دورے بھی کئے،ندافاضلی اردو ادبیات کے ساتھ ساتھ ہندی کے حلقے میں بھی بہت مقبول تھے، انہوں نے ہندی میں متقدمین شعراء کے کلام کو کتابی شکل میں بھی مرتب کیا، ان کی شاعری دیگر بھارتی زبانوں میں بھی ترجمہ ہوئی جس میں گجراتی خاص طور پر شامل ہے،بیشتر صوبائی حکومتوں نے ان کی سوانح اور تخلیقات کو اپنی درسی کتابوں میں شامل نصاب کیا ہے.
ندافاضلی کا 8 فروری 2016ء کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا اور تدفین ممبئی میں ہوئی.
ندا فاضلی کی ادبی تخلیقات کی فہرست :-
1. آنکھ اور خواب کے درمیان
2. دنیا مرے آگے
3. دیواروں کے باہر
4. دیواروں کے بیچ
5. شہر میرے ساتھ چل
6. شہر میں گاؤں
7. لفظوں کا پل
8. کھویا ہوا ساکچھ
9. مورناچ
10. زندگی کی طرف
11. سب کا ہے ماہتاب
12. ملاقاتیں
13. چہرے
پیا نہیں جب گاؤں میں
آگ لگے سب گاؤں میں
ان کے جانے کی تاریخ
دنگل تھا تب گاؤں میں
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھا
تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
شیشے سے دھلا چوکا ، موتی سے چنے برتن
کھلتا ہوا،اک چہرا ، ہنستے ہوئے سو درپن
ساجن جنگل پار گئے میں چپ چپ راہ تکوں
بچھیا بیٹھی تھان میں اونگھے کس سے بات کروں
جانے ان بن کیا ہوجاتا ہے میرے جی کو
چوکا باسن کر پاؤں نہ چکی پیس سکوں
نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پوراچاند
ماں کی لوری سا ، بچے کے دودھ کٹورے جیسا چاند
اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا
سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے
اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی
برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے
کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے
اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھے
روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
نہ کرتے شور شرابہ تو اور کیا کرتے
تمہارے شہر میں کچھ اور کام کاج بھی ہو
کوئی منظر سدا نہیں رہتا
ہر تعلق مسافرانہ ہے
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں
کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا
یہ کیا عذاب ہے، سب اپنے آپ میں گُم ہیں
زباں مِلی ہے ، مگر ہم زباں نہیں مِلتا
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ
دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے
وہ نام، جو برسوں سے سمایا ہے ذہن میں
وہ خواب اگر ہے تو بِکھر کیوں نہیں جاتا
بات بہت معمُولی سی تھی، اُلجھ گئی تکراروں میں
ایک ذرا سی ضد نے آخر، دونوں کو برباد کِیا
آج ذرا فُرصت پائی تھی، آج اُسے پِھر یاد کِیا
بند گلی کے آخری گھر کو ، کھول کے پِھر آباد کِیا
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
پہلے ہر چیز تھی اپنی ، مگر اب لگتا ہے !
اپنے ہی گھر میں کسی دوسرے گھر کے، ہم ہیں
وہ آدمی تھا کتنا بھلا، کتنا پُرخلوص
اس سے بھی آج لیجئے، ملاقات ہوگئی
تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو
جہاں اُمید ہو اِس کی وہاں نہیں ملتا
اٹھتا ہے دل و جاں سے دھواں دونوں طرف ہی
یہ میر کا دیوان یہاں بھی ہے، وہاں بھی ہے