Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجئے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

اُن سے نظریں کیا ملیں روشن فضائیں ہو گئیں
آج جانا پیار کی جادوگری کیا چیز ہے

بکھری زُلفوں نے سکھائی موسموں کو شاعری
جُھکتی آنکھوں نے بتایا مے کشی کیا چیز ہے

ہم لبوں سے کہہ نہ پائے اُن سے حال دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ خاموشی کیا چیز ہے