وہ جو تم نے لکھے تھے کبھی کبھی مجھ کو
میں آج سوچ رہا ہوں انہیں جلا ڈالوں !
بجھا بجھا سا چلا آرہا ہوں آفس سے
دماغ گرم ہے جلتے ہوئے توے کی طرح
نحیف ہاتھوں سے پھر فائلوں کے غاروں میں
اُداس دن کا ہمالہ گرا کے آیا ہوں !
بدن نڈھال ہے اس نوجواں سپاہی سا
کئی مہینوں سے عورت ملی نہ ہو جس کو
گزار جسم کی جنت ملی نہ ہو جسکو
وہ گیت تھا ۔ ندا فاضلی جسے تم نے
کبھی نشستوں میں دیکھا تھا گنگناتے ہوئے
خیال و فکر کی قوس و قزح کھلاتے ہوئے
ہوائے وقت سے اِک بلبلہ سا پھوٹ گیا
غمِ حیات کے پھتّر سے کانچ ٹوٹ گیا
تھکے بدن کو فقط چارپائی بھاتی ہے
بجائے یاد کے اب مجھ کو نیند آتی ہے