Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ندا فاضلی

یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہے

یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہے
وہ کون ہے جو ہے بھی نہیں اور اداس ہے

ممکن ہے لکھنے والے کو بھی یہ خبر نہ ہو
قصے میں جو نہیں ہے وہی بات خاص ہے

مانے نہ مانے کوئی حقیقت تو ہے یہ ہی
چرخہ ہے جس کے پاس اسی کی کپاس ہے

اتنا بھی بن سنور کے نہ نکلا کرے کوئی
لگتا ہے ہر لباس میں وہ بے لباس ہے

چھوٹا بڑا ہے پانی خود اپنے حساب سے
اتنی ہی ہر ندی ہے یہاں جتنی پیاس ہے