Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ندا فاضلی

آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی

آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی

جب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی سہی

 

ہم کہاں کے دیوتا ہیں بے وفا وہ ہیں تو کیا

گھر میں کوئی گھر کی زینت ہے چلو یوں ہی سہی

 

وہ نہیں تو کوئی تو ہوگا کہیں اس کی طرح

جسم میں جب تک حرارت ہے چلو یوں ہی سہی

 

میلے ہو جاتے ہیں رشتے بھی لباسوں کی طرح

دوستی ہر دن کی محنت ہے چلو یوں ہی سہی

 

بھول تھی اپنی فرشتہ آدمی میں ڈھونڈنا

آدمی میں آدمیت ہے چلو یوں ہی سہی

 

جیسی ہونی چاہئے تھی ویسی تو دنیا نہیں

دنیا داری بھی ضرورت ہے چلو یوں ہی سہی