Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ندا فاضلی

دن سلیقے سے اُگا رات ٹھکانے سے رہی

دن سلیقے سے اُگا رات ٹھکانے سے رہی
دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی

چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں
زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی

اس اندھیرے میں تو ٹھوکر ہی اجالا دے گی
رات جنگل میں کوئی شمع جلانے سے رہی

فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو
دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی

شہر میں سب کو کہاں ملتی ہے رونے کی جگہ
اپنی عزت بھی یہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی