من میرا گھبرا جائے
دل روئے زار زار
ماں یاد تری جب آئے
میں ہوجاؤں بیزار
روشن سی حقیقیت ہے یہ
ہاں رب کی مشیت ہے یہ
ماضی پہ نظر جب جائے
غمگین سماں ہوجائے
اک ماں کی گود کا راجا
دردر کی ٹھوکریں کھائے
تجھ سے جس لمحہ دور ہوا
کاسہ تھامے مجبور ہوا
چھینا ھے غریب الوطنی نے
مجھ سے میرا گھربار
من میرا گھبرا جائے
چڑھ کر میں ترے شانے پر
تجھ سے بھی بڑا لگتا تھا
سجدے بھی طویل ہوتے تھے
جب پشت پہ میں چڑھ جاتا
جب چوٹ مجھے کچھ آتی
نم آنکھ تری ہوجاتی
یہ رب کی عطا اور کیا ہے
انمول سا اک تحفہ ہے
ماں ذات مقدس تیری
بے مثل ھے تیرا پیار
من میرا گھبرا جائے
جب دیس سے کوئی آتا
اور کوئی سندیسہ لاتا
اک تیرے سوا پردیسی
سب خیر خبر بتلاتا
چاہوں میں دعائیں تیری
خط لیکر تیرا جھوموں
تحریر میں تیری چوموں
پھر کوئی قاصد آئے
تیرا سندیسہ لائے
چمکا دے مرا سنسار
من میرا گھبرا جائے
مقصود کے جیون رتھ کو
ماں اب بھی ضرورت تیری
نفرت سے بھری دنیا میں
درکار محبت تیری
یہ عمر کے اونچے زینے
مجھ سے نہ لڑکپن چھینے
اے ماں میں تری آنکھوں میں
پھر دیکھوں اپنا چہرہ
اشکوں کی پرو کر لڑیاں
آ بھینٹ کروں اپہار
من میرا گھبرا جائے
دل روۓ زار زار
ماں یاد تری جب آۓ
میں ہوجاؤں بیزار