Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


مقصود انور مقصود

ماں

من میرا گھبرا جائے

دل روئے زار زار

ماں یاد تری جب آئے

میں ہوجاؤں بیزار

روشن سی حقیقیت ہے یہ

ہاں رب کی مشیت ہے یہ

ماضی پہ نظر جب جائے

غمگین سماں ہوجائے

اک ماں کی گود کا راجا

دردر کی ٹھوکریں کھائے

تجھ سے جس لمحہ دور ہوا

کاسہ تھامے مجبور ہوا

چھینا ھے غریب الوطنی نے

مجھ سے میرا گھربار

من میرا گھبرا جائے

چڑھ کر میں ترے شانے پر

تجھ سے بھی بڑا لگتا تھا

سجدے بھی طویل ہوتے تھے

جب پشت پہ میں چڑھ جاتا

جب چوٹ مجھے کچھ آتی

نم آنکھ تری ہوجاتی

یہ رب کی عطا اور کیا ہے

انمول سا اک تحفہ ہے

ماں ذات مقدس تیری

بے مثل ھے تیرا پیار

من میرا گھبرا جائے

جب دیس سے کوئی آتا

اور کوئی سندیسہ لاتا

اک تیرے سوا پردیسی

سب خیر خبر بتلاتا

چاہوں میں دعائیں تیری

خط لیکر تیرا جھوموں

تحریر میں تیری چوموں

پھر کوئی قاصد آئے

تیرا سندیسہ لائے

چمکا دے مرا سنسار

من میرا گھبرا جائے

مقصود کے جیون رتھ کو

ماں اب بھی ضرورت تیری

نفرت سے بھری دنیا میں

درکار محبت تیری

یہ عمر کے اونچے زینے

مجھ سے نہ لڑکپن چھینے

اے ماں میں تری آنکھوں میں

پھر دیکھوں اپنا چہرہ

اشکوں کی پرو کر لڑیاں

آ بھینٹ کروں اپہار

من میرا گھبرا جائے

دل روۓ زار زار

ماں یاد تری جب آۓ

میں ہوجاؤں بیزار