اصلی نام منشی مہاراج بہادر اور برق دہلوی تخلص تھا، ان کی پیدائش جولائی 1884ء میں دہلی میں ہوئی،ان کے آباء و اجداد کا اصل وطن سکیٹ ضلع ایٹہ ہے،ان کے مورث اعلی رائے جگ روپ دہلی کے دربار شاہی میں اعلی عہدے پر فائز تھے،ان کے دادا منشی خوب چند شاہی دربار کے وکیل تھے،ان کے والد منشی ہر نرائن داس حسرؔت محکمہ ڈاک میں ملازم تھے اور شاعر بھی تھے،ان کے نانا رائے دولت رام عبرؔت جوکہ راجہ کنول نین کے خانوادے سے تھے،فاضل ادیب ، بلند پایہ شاعر، صاحب دیوان اورخاقانئ ہند ذوق کے شاگردوں میں سے تھے، شاعری ان کو ورثہ میں ملی تھی ، اوائل عمر ہی سے طبعیت میں شعر وشاعری کا رنگ غالب تھا، لیکن والد نے شاعری نہ کرنے کی تاکید کی تھی تاکہ تعلیم میں رکاوٹ پیدا نہ ہو ، لیکن جب انٹرنس کے امتحان میں کامیابی حاصل کرلی تو گھر والوں نے اجازت دے دی۔
انھوں نے اردو وفارسی کی ابتدائی تعلیم قریب کے ہی مدرسہ سے حاصل کی،1903 میں انٹر میڈیٹ پاس کیا ، 1905ء میں والد کی وفات کے بعد محکمہ ڈاک میں ملازمت مل گئی، ادھوری تعلیم کی کسک من میں تھی ، اس لیے دوران ملازمت بھی تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا ، چنانچہ 1918ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل اور 1920ء میں گریجوشن پاس کیا، 1922ء میں محکمہ جاتی امتحان سبورڈینیٹ اکاؤنٹ سروسز میں کامیابی حاصل کی اور پوسٹل آڈٹ آفس دہلی میں سپریٹنڈنٹ کے عہدہ پر فائز ہوئے ، ابتدا میں انہوں فصیح الملک داغ دہلوی کی ایما پر ان کے شاگرد آغا شاعر قزلباش دہلوی سے مشورہ سخن لیا لیکن طبیعت میں ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب ان سے علیحدگی اختیار کرلی لیکن ان دونوں کے درمیان احترام کا رشتہ ہمیشہ باقی رہا ۔
ایک دفعہ ملک الشعرا منشی دوارکا پرشاد افق لکھنؤی سے ان کی ملاقات ہوگئی تو وہ ان کی طباعی، ذہانت اور خوشگوئی سے کافی متاثر ہوئے لیکن ان کا تخلص افق لکھنؤی پسند نہ کیا اس لیے انہیں کی ایما پر “برق “ تخلص اختیار کیا، ان کی سب سے پہلی نظم " عمل خیر " جنوری 1908ء میں رسالہ “زمانہ “ دہلی میں شائع ہوئی، اس نظم سے ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا ، ان کی نظمیں اس وقت کے مؤقر رسالوں اور اخباروں کی زینت بنتی تھیں جن میں ادیب ، زمانہ ، العصر ، زبان ، مخزن وغیرہ شامل ہیں.
برق دہلوی ہمہ گیر شخصیت کے حامل تھے وہ شاعر ،ادیب اور بہترین مقررتھے ،بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے بعد ازاں ان کی طبیعت نظم کی طرف مائل ہوگئی تھی انہوں نے سبھی اصناف سخن پر طبع آزمائی کی ، ان کی نظموں اور غزلوں کا رنگ ایک جیسا ہے،بلکہ نظموں پر تغزل کا اسلوب حاوی ہے، ہندوفلسفہ، ہندوسماج ، ہندو ویروں ، ہندو وطن پرستی پر انہوں نے اپنی قادر الکلامی کا ثبوت پیش کیا ہے، انہوں نے اپنے کلام میں زور اور تاثیر پیدا کرنے کیلئے عروضی صورتوں اور مرغوب الفاظ کا سہارا لیا اور تاریخ، فلسفہ، جذبات وعقیدت ، اشٹ دیویوں کی تحمید وتوصیف کی ایسی دلآویز تصویر کشی کی کہ گویا وہ نظروں کے سامنے ہو ، ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ لکھتے ہیں کہ " ان کی مستقل نمائندگی تہذیب ہنود کا مداح ہوں ، خالص شعریت کے اعتبار سے ان کو ایک کامیاب ترین صناعِ ِالفاظ سمجھتا ہوں "اس کے علاوہ بیر سٹر آصف علی لکھتے ہیں کہ "عارفانہ تجسس ہندو مفکروں اور شاعروں کے خمیر میں ہے، مہاراج بہادر کا دامن خیال اسی دولت سے مالامال تھا " ان کی منظومات نیچر (فطری مناظر) ، ترجمہ کردہ (انگلش، بنگلہ اور فارسی) مذہبی ، تاریخی ، اخلاقیات پر مشتمل ہیں، مغربی شعراء میں آپ ورڈزتھ شیلی اور براؤننگ کے کلام کے دلدادہ تھے ، اردو شعراء میں آتش اور انیس کو دور قدیم کے صف اول کےشعراء میں شمار کرتے تھے ،ان کے کلام میں داغ کی شگفتہ بیانی اور غزلوں میں آتش ، نظموں میں انیس کا رنگ صاف جھلکتا ہے، وہ تشبیہ واستعارہ ، محاورات کا برمحل استعمال کرتے تھے ، ان کے کلام میں اچھوتے خیالات ، تازگی اور دلآویزی ملتی ہے، ان کی شاعری میں تصوفانہ رنگ بھی ہے، ان کی نظمیں ان کی پختہ خیالی کا مرقع ہیں ، ان کے کلام میں روانی ، تخیل ،شیرینی اور بلند پروازی پائی جاتی ہے، علامہ کیفی دہلوی لکھتے ہیں کہ " برق کے کلام میں ہر قسم کے موضوع ملتے ہیں ، داخلی بھی اور خارجی بھی، وہ تخیل پروازی اور منظر نگاری دونوں میں برق ہیں،ان کی زبان دہلی کی ٹکسالی زبان تھی،افسوس کہ برق نے اچھی عمر نہ پائی ، مکروہات دنیا کے شکار رہے، مگر ادب سے ان کی دلچسپی ہمیشہ برقرار رہی، اس تھوڑی سی عمر میں انہوں نے بہت کچھ کہا "۔
ان کو اردو فارسی کے ساتھ انگریزی ہندی اور سنسکرت پر بھی مکمل عبور حاصل تھا وہ بلند پایہ خطیب بھی تھے، ان کے آخری دور کے کلام پرحزنیہ کیفیت کا غلبہ تھا ، اصغر گونڈوی “مطلع انوار “ کے دیباچہ میں جو بر ق کی حیات میں شائع ہوا تھا لکھتے ہیں "جناب برق کی نظموں کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ جس طرح ان کے عنوانات بظاہر مشرقی اور ہندوستانی نظر آتے ہیں اسی طرح ان کی روح بھی خالصاً مشرقی اور ہندوستانی ہے، مغربی شعر وادب کی واقفیت سے صرف اس میں وسعت مذاق کا اضافہ ہوا ہے یہ نہیں کہ ان کی اصلیت و ماہئیت تبدیل ہوکر مغربیت کی فضا میں گم ہوگئی ہو اور شاید یہی وہ کامیابی ہے جو کسی بڑے سے بڑے جدید تعلیم یافتہ شاعر کو نصیب نہیں ہوسکتی ہے"۔
افتخار الشعرا منشی مہاراج بہادر برق دہلوی کی 12 فروری 1936ء کو پانی پت میں حرکت قلب بند ہونے کے سبب انتقال ہوا.
برق دہلوی کی تخلیقات
1۔ مطلع انوار
2۔ کرشن درپن
3۔تجلیات برق
نیچی نظروں سے ہے انداز تبسم کس لئے ؟
چھین لے دل ،کیا نگاہ سرمگیں اتنی نہیں ؟
برقؔ وہ بھر کر مرا دینا انہیں جام شراب
اور ان کا ناز سے کہنا نہیں ،اتنی نہیں !
چار ہونے بھی نہ پائی تھی وہ شرمیلی نظر
دل ابھی زد پر نہ آیا تھا کہ بسمل ہوگیا
اب نہ پیمان ِ وفا سےکوئی دونوں میں پھرے
آپ دل کے ہوگئے اور آپ کا دل ہوگیا
کسی ناشاد کی آہوں کا شرارا تو نہیں ؟
آسمان سے کوئی ٹوٹا ہوا تارا تو نہیں
حسن میں تیرے عجب نازِ دل آرائی ہے
تیرا جلوہ کبھی پنہاں ،کبھی پیدائی ہے
مرکر ملی ہے چادر خا ک وطن مجھے
مٹی نے اس زمیں کی دیا ہے کفن مجھے
یہ دو لفظوں میں تفسیر جنت اور دنیا کی
عشق نے اپنا اثر یکساں کیا دونوں طرف
قیس بھی مجنوں ہوا ،لیلی بھی دیوانی ہوئی
خاک پتلے حقیقت میں ہیں تصویر فنا
ظاہری ہے جامۂ ہستی ، قضا پردے میں ہے
دل تو آتا تھا مگر اب آنکھ بھی آنے لگی
پختہ کاری عشق کی یہ رنگ دکھلانے لگی
مل گیا قسمت سے اک ہمدم ، دم مشکل مجھے
میں تسلی دل کودیتا ہوں ، تسلی دل مجھے
زمینِ شعر کی زینت کے واسطے اے برقؔ
ستارے توڑ کے لانے ہیں آسمان سے ہمیں
جو سرزد ہوچکی ہے پھر نہ ہوگی وہ خطا ہم سے
جو ہاتھ آئے کہیں فرد عمل اس پر نشان کرلیں
موت سے کب قطع ہوتا ہے تسلسل زیست کا
عقل کم اندیشہ کیوں اندیشہ باطل میں ہے
حقیقت شاہد حسن ازل کھل نہیں سکتی
کیا ہے کچھ اشارہ فلسفہ میں استعاروں نے