بیخودی میں کہد دیا ہے آپ سے راز نہاں
آپ کے منھ تک رہے یہ آپ کے دل میں رہے
برق ِ حسن یار اتنی کس لئے ہے بیقرار ؟
یہ میری آنکھوں میں ٹھہرے ،یہ مرے دل میں رہے
اشک ریزی اس کی فطرت ہی بدل سکتی نہیں
قبر بیکس پر جلے یا شمع محفل میں رہے