Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


برق دہلوی

بیخودی میں کہد دیا ہے آپ سے راز نہاں

بیخودی میں کہد دیا ہے آپ سے راز نہاں

آپ کے منھ تک رہے یہ آپ کے دل میں رہے

 

برق ِ حسن یار اتنی کس لئے ہے بیقرار ؟

یہ میری آنکھوں میں ٹھہرے ،یہ مرے دل میں رہے

 

اشک ریزی اس کی فطرت ہی بدل سکتی نہیں

قبر بیکس پر جلے یا شمع محفل میں رہے