اندیشۂ باطل ہے ترا عقل سے خالی
میدان میں پست عبث ہمت عالی
تو خون کرے جنگ میں ہے خام خیالی
ہے طُرفہ طلسمات یہ دنیائے مثالی
مارے سے ترے کوئی یہاں مر نہیں سکتا
تو خاک کے ذرے کو فنا کر نہیں سکتا
ناداں کے لئے مایۂ آفات ہے دنیا
دانا کے لئے جلوہ گہہ ذات ہے دنیا
نیرنگِ نظر عکسِ خیالات ہے دنیا
کچھ بھی نہیں اور دارمکافات ہے دنیا
دیکھ اس کے تماشوں کو تو شاہد کی نظر سے
ہوش اپنے نہ کھو خواب پریشان کے اثر سے
جب تک ہے مگر سانس عمل کی ہے ضرورت
آزاد نہیں کرم سے مٹی کی یہ مورت
نشکام سے لیکن رہے یہ کام کی صورت
آئینہ دل کو نہ لگے زنگِ کدورت
بے لوث کنول بن کے تو رہ بحر جہاں میں
کثرت میں ہو وحدت کی تجلی دل وجاں میں
اے کاش! ہو یہ فلسفہ آدرش ہمارا
جنت سے بدل جائے جہنم کا نظارا
شمشیر حوادث سے نہ ہوں قلب دو پارا
پھر اوج پر اے برقؔ ہو بھارت ہمارا
ہنگامۂ ہستی میں ظفر یاب رہیں ہم
روشن صفت ِ مہر جہاں تاب رہیں ہم