عقل دقیقۂ رس نے اٹھایا حجاب کب ؟
راز طلسم دہر ہوا بے نقاب کب ؟
مست الست بادۂ عرفان ہیں اہل دل
ہر رند کے نصیب میں ہے یہ شراب کب ؟
وحدت کا راز اہل طریقت سے پوچھئے
واقف ہیں حال وقال سے اہل کتاب کب ؟
چشم نظارہ باز حقیقت نگر نہیں
ورنہ جدا ہیں قطرہ وموج وحباب کب ؟
قایم ہے بعد ِمرگ تسلسل حیات کا
ہستی کا نیستی سے ہوا سدباب کب ؟