Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


برق دہلوی

عقل دقیقۂ رس نے اٹھایا حجاب کب

عقل دقیقۂ رس نے اٹھایا حجاب کب ؟

راز طلسم دہر ہوا بے نقاب کب ؟

 

مست الست  بادۂ عرفان ہیں اہل دل

ہر رند کے نصیب  میں ہے یہ شراب کب ؟

 

وحدت کا راز اہل طریقت سے پوچھئے

واقف ہیں حال وقال سے اہل کتاب کب ؟

 

چشم نظارہ  باز حقیقت نگر نہیں

ورنہ جدا ہیں قطرہ وموج وحباب کب ؟

 

قایم ہے بعد ِمرگ تسلسل حیات کا

ہستی کا نیستی سے ہوا سدباب کب ؟